تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 112

وَزْنَ اَصْغَرِ النَّمْلِ خَیْرًا یَّرَہٗ جو شخص ایک چھوٹی سے چھوٹی چیونٹی کے برابر بھی کوئی نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا یعنی فِیْ کِتَابِہٖ وَیَسُـرُّہٗ ذَالِکَ وہ اسے خدا تعالیٰ کی کتاب میں لکھا ہوا پائے گا اور اسے دیکھ کر خوش ہوگا کیونکہ جس طرح اس نے نیکی کی ہوگی اسی طرح خدا تعالیٰ اس نیکی کے بدلہ میں اسے اپنے انعامات سے حصہ عطا فرمائے گا اور اسے اپنے فضلوں کا وارث کرے گا۔اس کے بعد سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں یُکْتَبُ لِکُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ بِکُلِّ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ وَّ بِکُلِّ حَسَنَۃٍ عَشْـرُحَسَنَاتٍ۔ہرشخص جو نیک یا بد ہوگا اس کی نیکی بدی کی جزا کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے اس کی ایک بدی کے مقابلہ میں اﷲ تعالیٰ کے حضورصرف ایک ہی بدی لکھی جاتی ہے۔لیکن جو شخص کوئی ایک نیکی بجا لاتا ہے اس کی ایک نیکی کے مقابلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا چلا جاتا ہے۔یعنی بدی کے نتیجہ میں صرف ایک بدی لکھی جاتی ہے اور نیکی کے نتیجہ میں ایک نہیں بلکہ دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔فَاِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ جب قیامت کا دن آئے گا تو ضَاعَفَ اللہُ حَسَنَا تِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیْضًا بِکُلِّ وَاحِدَۃٍ عَشْـرًا اﷲ تعالیٰ مومنوں کی حسنات کو پھر بڑھائے گا اور ایک ایک نیکی کو دس گنا کرے گا۔یعنی ایک دفعہ تو وہ پہلے بڑھا چکا ہوگا اور ایک ایک نیکی کو دس دس نیکیوں کی شکل میں تبدیل کر چکا ہو گا لیکن جب قیامت کا دن آئے گا تو پھر ان بڑھائی ہوئی نیکیوں میں سے ایک ایک دس گنا کرے گا۔گویا ایک نیکی کی جزا سوگنے تک پہنچا دے گا۔لوگوں نے تو دَہ در دنیا ستر در آخرت ایک محاورہ ایجاد کیا ہوا ہے لیکن اگر احادیث کے مفہوم کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ محاورہ یوں بنتا ہے کہ دَہ در دنیا سو در آخرت وَیَـمْحُوْ عَنْہُ بِکُلِّ حَسَنَۃٍ عَشْـرَ سَیِّاٰتٍ۔دوسری طرف اﷲ تعالیٰ اس کی ہر نیکی کے بدلہ میں اس کی دس بدیوں کو دور کر دے گا۔یعنی اگر اس نے ایک نیکی کی ہوگی تو وہ اس کی دس بدیاں مٹا دے گا۔دس نیکیاں کی ہوں گی تو سو بدیاں مٹا دے گا اور اگر سو نیکیاں کی ہوں گی تو ہزار بدیاں مٹا دے گا گویا دونوں رنگ میں اسے جزائے خیر عطا کی جائے گی۔اس رنگ میں بھی کہ اس کی ایک ایک نیکی کو دس گنے اور پھر سو گنے تک بڑھا دیا جائے گا اوراس رنگ میں بھی اس کی ہر نیکی کے مقابلہ میں دس بدیوں کو مٹا دیا جائے گا۔بات یہ ہے کہ اصل چیز محبت الٰہی ہے اور یہ رستہ شریعت نے اسی کے لئے تجویز کیا ہے جس کا دل اﷲ تعالیٰ کے عشق اور اس کی محبت سے لبریز ہوگا۔اس کے لئے نہیں جس کا دل سخت ہو اور جواﷲ تعالیٰ کی محبت کا کوئی شمہ بھی اپنے قلب میں نہ رکھتا ہو اگر نیکی کرتا ہو تو وہ بھی اتفاقیہ طورپر