تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 111
تحریک کرنی شروع کی کہ اگر تمہیں کسی چھوٹی سی چھوٹی نیکی کرنے کا بھی موقع ملے تو وہ تمہیں ضرور کر لینی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ نیکی بڑھتی ہے اگر تم نیکی کا بیج بو دو گے تو خواہ وہ بظاہر کیسا ہی حقیر اور معمولی دکھائی دے اللہ تعالیٰ اس کو بڑھائے گا اور جب قیامت کے دن تمہیں اس کا اجر ملے گا تو تم اس کو دیکھ کر حیران رہ جاؤ گے اس لئے کسی نیکی کو ضائع مت کرو۔فَنَزَلَتْ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ یعنی وَزْنَ اَصْغَرِ النَّمْلِ خَیْرًا یَّرَہٗ۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔جہاں تک اس آیت کے مفہوم کا سوال ہے اس حد تک تو مجھے راوی سے اتفاق ہے لیکن جہاں تک صحابہؓ کےساتھ اس آیت کا تعلق بیان کیا گیا ہے میں اس راوی کی رائے کا قائل نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں اس میں صحابہؓ کی سخت ہتک کی گئی ہے کیونکہ ان کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ نعوذ باللہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہمیں جنت ملے تب تو ہم کسی غریب کو کھلا سکتے ہیں لیکن اگر جنت نہ ملے تو ہم نہیں کھلا سکتے۔یہ خیال ایسا ہے جو صحابہؓ کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک لمحہ کے لئے بھی قابل قبول نہیں سمجھا جاسکتا۔صحابہؓ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور ان کی حالت ہی بالکل بدل چکی تھی ہم تو دیکھتے ہیں دنیا میں کئی دہریہ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکار کرتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب ان کے پاس آجائے تو وہ اس کی مدد کے لئے فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔پس یہ بات کہ صحابہؓ نے مساکین کو روٹی کا ایک ٹکڑہ تک دینا ترک کر دیا تھا اور جب کوئی مسکین ان کے دروازہ پر آتا تو وہ اسے واپس لوٹا دیتے اور کہتے کہ جاؤ میاں ہمارے پاس کچھ نہیں قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد امر ہے۔معلوم ہوتا ہے راوی نے خود بخود یہ خیال کر لیا ہے کہ صحابہؓ اس طرح کرتے ہوں گے۔ورنہ صحابہؓ کی ذات اس اتہام سے بالکل بری ہے صحابہؓ کی شان تو بہت بلند ہے وہ لوگ جو کسی نیکی کی جزا کے قائل نہیں ہوتے، جو خدا تعالیٰ کی ہستی کو بھی تسلیم نہیں کرتے، جو دن رات دنیوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور جن کے سامنے اگر عقبیٰ کا ذکر کیا جائے تو ہنسی اڑانے لگتے ہیں وہ بھی بغیر اس بات کو سوچنے کے کہ ان کے فعل کا کوئی نتیجہ نکلے گا یا نہیں غریبوں کی مدد کرتے چلے جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو ہزاروں روپیہ اس غرض کے لئے صرف کر دیتے ہیں۔جب ایمان سے کلّی طور پر محروم لوگ بھی مساکین کو کھانا کھلاتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ انہیں اس کام کی کوئی جزا ملے گی یا نہیں تو صحابہؓ کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو خیرات سے روک لیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جب معمولی نیکی پر ہمارے لئے کوئی اجر مقرر نہیں تو ہم چھوٹی چھوٹی نیکیاں کیوں کریں۔پس یہ خیال جس کا صحابہؓ کے متعلق اظہار کیا گیا ہے بالکل غلط ہے۔لیکن آیت کا جو مفہوم انہوں نے بیان کیا ہے وہ درست ہے لکھتے ہیں مِثْقَالَ ذَرَّةٍ کے معنے یہ ہیں کہ