تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 79
اور دماغ کا بھی وہ احاطہ کر لیتی ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے نَھار کا ذکر کیا ہے مگر نَھار کے ساتھ بھی تَجَلّٰى کا لفظ رکھ دیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ ہم دن کے اس حصہ کو شہادت کے طورپر پیش کررہے ہیں جب وہ اس قدر روشن ہوجاتا ہے کہ سونا اور غافل رہنا بالکل ناممکن ہو جاتاہے۔ابتدائی حصہ کو پیش نہیں کر رہے کیونکہ صبح کے وقت کچھ لوگ سوجاتے ہیں مگر جب دن زیادہ چڑھ جائے تو پھر کوئی نہیں سوتا۔صوفیا ء میں یہ عام رواج رہا ہے کہ وہ صبح کی نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سو جایا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی یہی عادت تھی کہ آپ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر تک استراحت فرماتے۔پس اللہ تعالیٰ یہاں نَھار کے ابتدائی حصہ کی مثال پیش نہیں کرتا بلکہ اس حصہ کی مثال پیش کرتا ہے جب وہ پورا روشن ہو جاتا ہے یعنی روشنی اتنی تیز ہوتی ہے کہ انسان اگر سونا بھی چاہے تو وہ نہیں سو سکتا۔یہ دونوں حالتیں یعنی رات کی وہ حالت جب وہ ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے اور دن کی وہ حالت جب سونے والے بھی جاگ اٹھتے ہیں اللہ تعالیٰ بطور مثال کفار کے سامنے پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے یہی فرق تمہاری حالت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی حالت میں ہے۔تمہاری تمام قوتوں پر تھکان اور خوابیدگی کا اثر ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عرب نے گو کوئی خاص ترقی نہیںکی تھی مگر جتنی ترقی بھی کی تھی وہ ان کی تھکان کا موجب بن گئی تھی۔مکہ کا مجاور ہونا سب سے بڑی عزت سمجھا جاتا تھا اور جیسے مندر کے پجاریوں کی حالت ہوتی ہے وہی حالت ان کی تھی۔قوت عملیہ فنا ہو چکی تھی اور ان کے اعمال نے ان میں کوفت پیداکر دی تھی۔غرض اللہ تعالیٰ ان کو بتاتا ہے کہ تمہاری تمام قوتوں پر تھکان اور خوابیدگی کا اثر ہے تم لمبی جہالت اور لمبے عیش کے بعد زیادہ سے زیادہ سونا چاہتے ہو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی حالت میں بیداری اور ہوشیاری اور قوت عملیہ پائی جاتی ہے۔وہ جاگنا اور کام کرنا چاہتے ہیں اور تم سونا اور غافل رہنا چاہتے ہو پھر تمہارا اور ان کا کیا مقابلہ؟ سوتا جاگتے کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے؟ تمہاری حالتوں پر رات کی خوابیدگی طاری ہے اور ان کی حالتوں پر دن کی بیداری غالب ہے۔ان کی راتیں بھی دن ہوتی ہیں اور تمہارے دن بھی رات ہوتے ہیں پھر تمہارا اور ان کا کیا مقابلہ؟ جب تک تم بھی رات کے بعد دن کی حالت پیدا نہ کرو تم کبھی سکھ نہیں پا سکتے۔اس کے بعد فرماتا ہے وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ہم اس خدا کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس نے نر اور مادہ پیدا کیا ہے اور جن سے دنیا میں آئندہ نسل ترقی کر تی ہے یعنی جس طرح دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی حالتوں پر ہمیشہ دن کی بیداری طاری رہتی ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی حالتوں پر ہمیشہ رات کی