تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 579
تصرف کا پورا حق حاصل ہوگا۔رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ۔’’اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے‘‘ اللہ تعالیٰ اُن سے کیوں راضی ہوا؟ اس لئے کہ لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ پر انہوں نے پوری طرح عمل کیا۔جب یہ صفات اُن کے اندر پائی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن سے کیوں راضی نہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے کیوں راضی ہوگئے؟ اس لئے کہ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ایک معاملہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا اور ایک معاملہ خدا تعالیٰ نے اُن سے کیا۔دنیا میں تمام مذہبی لڑائیاں اور فسادات اِس وجہ سے واقعہ ہوتے ہیں کہ لوگ غلطی سے ایک جہت کا نام مذہب رکھ لیتے ہیں حالانکہ اصل مذہب نام ہے اِس بات کا کہ بندے اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے راضی ہو اُن کے اعمال ایسے ہوں کہ خدا تعالیٰ کی رضا اُن کو حاصل ہو رہی ہو اور خدا تعالیٰ کا سلوک اُن سے یہ ہو کہ وہ اُن پر اپنے انوار اور برکات کی بارش برسا رہا ہو۔یہ بھی کیا مذہب ہے کہ نماز پڑھ رہے ہیں، روزے رکھ رہے ہیں، زکوٰۃ دے رہے ہیں، حج کر رہے ہیں اور خدا ہے کہ بولتا ہی نہیں وہ چُپ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔کسی نے کہا ہے ؎ اُلفت کا تب مزا ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ میں اللہ تعالیٰ نے یہی نکتہ بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ہم اِس مذہب کے قائل نہیں کہ بندہ محبت کی آگ میں پُھنکا جا رہا ہو، فرقت کی گھڑیاں اس کو تڑپا رہی ہوں، وصلِ یار کی آرزو اس کے دِل بے تاب میں جذبات کا ایک تلاطم برپا کر رہی ہو، اُس کے دن تڑپتے اور راتیں جاگتے گذر رہی ہوں اور خدا ہو کہ آسمان پر خاموش بیٹھا ہو اور اُس کی طرف سے کوئی محبت کی آواز اُس کے کانوں میں نہ آتی ہو۔یا خدا تعالیٰ تو بُلا رہا ہو اور بندہ اُس کی محبت کے ہاتھ کو پرے کر رہا ہو۔حقیقی عشق اور محبت میں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔حقیقی محبت اِسی کو کہتے ہیں جب ع دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی اِدھر بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں گداز ہو رہا ہو اور اُدھر عرش پر اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی محبت کے لئے بے قرارہو۔یہی وہ مقام ہے جو رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ کا ہے۔حصہ آیت رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ سے دین اسلام کی فضیلت پس رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ