تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 578
اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ وہ قوم جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والی ہے باقی تمام اقوام سے اچھی ہے کیونکہ ساری قوموں کی تعلیموں پر اس نے عمل کیا ہے اس کے مقابل میں دشمن کو شَـرُّ الْبَـرِیَّۃ کیوں کہا گیا؟ اس لئے کہ نوحؑکے دشمن نے صرف نوحؑکی تعلیم کا انکار کیا تھا موسٰی کے دشمن نے صرف موسٰی کی تعلیم کا انکار کیا تھا۔عیسٰیؑ کے دشمن نے صرف عیسٰیؑ کی تعلیم کا انکار کیا تھا۔کرشنؑ کے دشمن نے صرف کرشنؑ کی تعلیم کا انکار کیا تھا زرتشت کے دشمن نے صرف زرتشتؑ کی تعلیم کا انکار کیا تھا مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نے نوحؑکی تعلیم کا بھی انکار کیا۔موسٰی کی تعلیم کا بھی انکار کیا۔عیسٰیؑ کی تعلیم کا بھی انکار کیا۔کرشنؑ کی تعلیم کا بھی انکار کیا زرتشتؑکی تعلیم کا بھی انکار کیا۔اِسی طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے اُن سب کی تعلیم کا اُس نے انکار کیا۔پس وہ شَــرُّ الْـبَـرِیَّۃ یعنی تمام مخلوق میں سے بدترہے۔گویا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً اور فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ کا لازماً یہ نتیجہ تھا کہ منکر شَـرُّ الْبَـرِیَّۃ ہوں اور مومن خَیْـرُ الْبَـرِیَّۃ۔جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا اُن کا بدلہ اُن کے رب کے حضور میں قائم رہنے والے باغات ہوں گے جن کے تلے نہریں بہتی ہوں گی۔الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا وہ اُن میں ہمیشہ ہمیش رہتے چلے جائیں گے اللہ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اُس ( اللہ) سے راضی ہو گئے۔عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗؒ۰۰۹ یہی (جزا) اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔تفسیر۔جَنّٰتُ عَدْنٍ سے مراد ہمیشہ کی جنات جَنّٰتُ عَدْنٍ کے معنے بعض تفاسیر میں یہ لکھے ہوتے ہیں کہ ’’عدن کی جنتیں‘‘۔مگر یہ صحیح نہیں۔عربی زبان میںعدن کےمعنے ’’ہمیشہ ‘‘کے ہوتے ہیں۔پس جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ کے معنے یہ ہیں کہ اُن کو ہمیشہ قائم رہنے والی جنتیں ملیں گی جن کے ساتھ نہریں بھی متعلق ہوں گی۔یہ نہیں ہوگا کہ جیسے لائل پور اور سرگودھا وغیرہ میں زمیندار نہروں سے پانی حاصل کرتے ہیں اسی طرح جنتیوںکو بھی دوسروں کی نہروں سے پانی لینا پڑے بلکہ ہر جنت کی اپنی نہر ہوگی اور جنتیوں کو ان پر