تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 570

جانتا تو اُسے نماز کا ترجمہ پڑھائیں غرض ہر شخص نماز کی ترویج اور اس کو دنیا میں قائم کرنے میں مشغول ہو جائے۔کوئی شخص نماز کی خوبیاں بیان کر رہا ہو، کوئی شخص نماز کا ترجمہ پڑھا رہا ہو، کوئی شخص نمازیں ادا کرنے کی لوگوں کو تحریک کر رہا ہو، کوئی شخص نماز پڑھنے والوں میں نماز کی مزید رغبت پیدا کر رہا ہو۔اس طرح کوئی مومن ایسا نہ ہو جو يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے حکم پر عمل نہ کر رہا ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا صرف یہی کام نہیں کہ تم خود نمازیں پڑھو بلکہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم لوگو ں کو نماز کی تحریک کر کے، اَنْ پڑھوں کو نماز کا ترجمہ سکھا کے ، نماز پڑھنے والوں کو نماز کی مزید رغبت دلا کے دنیا میں پوری مضبوطی کے ساتھ نمازوں کا رواج قائم کر دو۔یہ سب امور ایسے ہیں جو اقامتِ صلوٰۃ میں شامل ہیں۔دوسرے معنے جو اقامت صلوٰۃ کے یہاں چسپاں ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ تمہارا صرف یہی فرض نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو بلکہ یہ بھی فرض ہے کہ تم جماعت کے ساتھ نماز پڑھو۔مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں صرف عبادت کا حکم نہیں دیتے بلکہ باجماعت عبادت کا حکم دیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام فردی مذہب نہیں بلکہ قومی مذہب ہے۔باقی سارے مذاہب میں اگر افراد الگ الگ عبادت کرتے ہیں تو وہ بڑے زاہد، بڑے عابد، بڑے پرہیز گار اور بڑے عارف سمجھے جاتے ہیں۔لوگ اُن کی نیکی اور تقدّس کے قائل ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ کا قرب اور اُس کا وصال حاصل ہے۔مگر اسلام کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص با جماعت نماز ادا نہیں کرتا تو خواہ وہ علیحدگی میں کتنی عبادتیں کرتارہتا ہو وہ ہرگز نیک اور پارسا نہیں سمجھا جا سکتا اور اُسے ہرگز قوم میں عزت کا مقام نہیں دیا جا سکتا۔یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو اسلام اور غیر مذاہب میں پایا جاتا ہے۔باقی سب مذاہب پر غور کر کے دیکھ لو وہ انفرادی عبادات کو بہت بڑی اہمیت دیتے ہیں یہاں تک کہ بسا اوقات بڑی بڑی دُور سے پنڈت اور پادری اور راہب اور عوام الناس کے جوق در جوق یہ سُن کر کہ فلاں سادھو چالیس سال سے غار میں عبادت کر رہا ہے اُس کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں، اُسے نذریں دیتے ہیں، اُس کے آگے سجدے کرتے ہیں، اُسے اپنا حاجت روا سمجھ کر اُس سے بڑی عاجزی سے التجائیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سادھو سے بڑا اور کون ہو سکتا ہے۔یہ وہ ہے جو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چالیس سال سے پہاڑ کی ایک غار میں بیٹھا اﷲ اﷲ کر رہا ہے۔مگر اسلام کہتا ہے ایسا شخص ہرگز خدا تعالیٰ کا مقرب نہیں۔وہ تو بہت بڑا بے دین ہے جس نے اقامتِ صلوٰۃ کے حکم کو نظر انداز کر دیا ہے جس نے يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے حکم کو پس پشت پھینک دیا ہے۔جو شخص قوم سے کٹ گیا ہے۔جس نے قوم کی بہتری اور اس کی فلاح و بہبود کی کبھی فکر نہیں کی، جو گوشۂ تنہائی میں بیٹھ رہا ہے وہ تو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک سخت سزا کا مستحق ہے۔