تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 569
اقامتِ صلوٰۃ سے مراد باجماعت نماز ادا کرنا اور نماز کا رواج دینا وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ۔لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ کے بعد وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کا ذکر کرنا صاف بتا رہا ہے کہ اس جگہ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد محض عبادت نہیں۔اگر محض عبادت اس جگہ مراد ہوتی تو اُس کے علیحدہ ذکر کرنے کے کوئی معنے ہی نہیں تھے لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ میں یہ مفہوم بڑی وضاحت سے آ چکا تھا اور بتایا جاچکاتھا کہ مومنوں کا فرض ہے کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اُسی کی پرستش کریں یعنی نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ وغیرہ میں اپنی عمر بسر کریں پس جب وہاں عبادت کا وضاحتہً ذکر آ چکا تھا تو اس کے بعد وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کہنا کہ مومن وہ ہیں جو اقامتِ صلوٰۃ کرتے ہیں صاف بتاتا ہے کہ اس جگہ اقامتِ صلوٰۃ عبادت کے علاوہ کوئی اور مفہوم رکھتی ہے اور وہ وہی مفہوم ہے جو میں نے اپنے خطبات اور تقاریر میں بار ہا بتایا ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد با جماعت نماز ادا کرنا ہے یوں اقامتِ صلوٰۃ کے یہ بھی معنے ہوتے ہیں کہ عبادت کو کھڑا کرنا یعنی نماز کو اُس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنا۔مگر اقامت کے معنوں کو اگر ہم کلّی طور پر دیکھیں تو پھر نماز کو کھڑا کرنے کے معنے یہ بن جائیں گے کہ وہ دنیا میں قائم ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اقامتِ صلوٰۃ کے ایک یہ معنے بھی لئے ہیں کہ مومن اپنی نمازوں کو بار بار کھڑا کرتے ہیں۔نماز گرتی ہے تو وہ اُسے کھڑا کرتے ہیں پھر گرتی ہے تو وہ پھر کھڑا کرتے ہیں پھر گرتی ہے تو وہ پھر کھڑا کرتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اُنہیں نماز میں خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوتا یا اللہ تعالیٰ کی طرف کامل توجہ نہیں ہوتی تو وہ بار بار اپنی نمازوں کو سنوارنے اور اُن کو پورے طور پر درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس آیت میں یہ معنے مراد نہیں۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اقامتِ صلوٰۃ کے ایک یہ معنے بھی ہوتے ہیں اور ان معنوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑا زور دیا ہے کہ نماز گرتی ہے تو مومن اُس کو کھڑا کرتا ہے پھر گرتی ہے تو پھر کھڑا کرتا ہے (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۶۰۴،۶۰۵)۔مگر چونکہ یہ مضمون وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ میں آ چکا ہے اس لئے وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے یہاں کوئی زائد معنے ہوں گے جو میرے نزدیک دو ہیں۔اوّل نماز کا کھڑا کرنا اپنے اندر یہ مفہوم رکھتا ہے کہ دنیا میں نماز کا رواج قائم کر دیا جائے جیسے ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے یہ رسم جاری کر دی ہے اِسی طرح اللہ تعالیٰ مومنوں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وہ لوگوں میں نماز قائم کریں یعنی صرف خود ہی نماز نہ پڑھیں بلکہ تمام لوگوں میں نماز کی خوبیاں بیان کریں۔اُنہیں نماز پڑھنے کی تحریک کریں اگر انہیں نماز پڑھنی نہیں آتی تو انہیں نماز پڑھنا سکھائیں۔اگر کوئی شخص نماز کا ترجمہ نہیں