تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 545

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۙ۬ حالانکہ (جو لوگ ایمان نہیں لائے)انہیں ( اس رسول کے ذریعہ بس ) یہ ہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی اس طرح عبادت کریں کہ اطاعت صرف حُنَفَآءَ وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ اُسی کے لئے رہ جائے ( اس حال میں کہ) وہ اپنے نیک میلانوں میںثابت قدم رہنے والے ہوں اور ( پھر صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ) وَ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ؎۱ ؕ۰۰۵ نماز با جماعت ادا کرتے رہیں اور زکوٰۃ دیں اور یہی ( ہمیشہ صداقت پر ) قائم رہنے والی جماعت کا دین ہے۔حلّ لُغات۔مُـخْلِصِیْنَ مُـخْلِصِیْنَ : اَخَلَصَ سے اسم فاعل کا جمع کا صیغہ ہے اور اَخَلَصَ خَلَصَ سے باب اِفْعَال ہے۔خَلَصَ الشَّیْءُ خُلُوْصًا وَ خَلَاصًا کے معنے ہیں صَارَ خا لِصًا کوئی شے خالص ہوگئی۔خالص کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی غیر چیز ملی ہوئی نہ ہو اور جب خَلَصَ مِنَ التَّلَفِ کہا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں نَـجَا بچ گیا وَسَلِمَ اور سلامت رہا اور خَلَصَ الْمَاءُ مِنَ الْکَدَرِ کے معنے ہوتے ہیں صَفَاپانی گدلے پن سے بچ گیا مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں صَفَا کے جو معنے ہیں وہ حقیقی نہیں یعنی جب خَلَصَ الْمَاءُ مِنَ الْکَدَرِ کہتے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ کدر کو اس سے دور کر دیا گیا بلکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ پانی میں کدر آیا ہی نہیں اور خَلَصَ اِلَیْہِ وَ بِہِ الشَّیْءُ کے معنے ہوتے ہیں وَصَلَ وہ چیز اس تک پہنچ گئی۔یعنی جب یہ کہیں کہ خَلَصَ فَلَانٌ اِلَیْہِ یا خَلَصَ فُلَانٌ بِہِ تو دونوں کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ پہنچ گیا۔انہی معنوں میں عربی زبان کا یہ فقرہ ہے کہ خَلَصْتُ بِـمُسْتَوِیْ مِنَ الْاَرْضِ میں صاف میدان میں پہنچ گیا (اقرب) اسی طرح اَخْلَصَ السَّمْنُ کے معنے ہوتے ہیں اَخَذَ خُلَاصَتَہٗ گھی کا خالص حصہ الگ کر لیا اور اَخْلَصَ فِی الطَّاعَۃِ کے معنے ہوتے ہیں تَرَکَ الرِّیَاءَ اُس نے ریاء چھوڑ دیا۔اور اَخْلَصَ لَہُ النَّصِیْحَۃَ وَالْـحُبَّ کے معنے ہوتے ہیں خَلَّـصَھُمَا عَنِ الْغِشِّ۔اُس نے نصیحت اور محبت میںکسی قسم کا فریب یا کھوٹ نہیں رکھا اور اَخْلَصَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں اِخْتَارَہٗ اس کو چُن لیا (اقرب) ؎۱ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ میں الْقَيِّمَةِ کا جو حرف محذوف ہے یعنی اَلْمِلَّۃُ الْقَیِّمَۃُ یعنی قائم رہنے والی جماعت چونکہ محذوف کو ظاہر کئے بغیر ترجمہ درست نہ ہوتا تھا اس لئے محذوف کو ظاہر کر دیا گیا۔