تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 544

کے بعد دروازہ نبوت کلیۃً مسدود ہو چکا ہے اب نہ شرعی نبی آ سکتا ہے نہ غیر شرعی نبی آ سکتا ہے۔غرض اُنہی کے شاگرد اور انہی کے مدرسہ میں پڑھے ہوئے ان باتوں کا انکار کرنے لگ جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائیں اور جن کی تصدیق خود ان کی اپنی کتب سے ہوتی ہے۔اسی طرح حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ سے پہلے بڑے بڑے مولوی منبروں پر کھڑے ہو کر ایسے اشعار پڑھا کرتے تھے جن میں یہ ذکر ہوتا تھا کہ عیسٰیؑ بھی مر چکا اور موسٰی بھی۔مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وفاتِ مسیحؑ کا مسئلہ پیش کیا تو تمام علماء کو اپنی باتیں بھول گئیں اور وہ یہ شور مچانے لگ گئے کہ عیسیٰ زندہ ہے عیسٰی زندہ ہے۔اسی طرح یا تو ایک زمانہ میں سارے مسلمانوں کی غفلت اور ان کی سستی کا اصل باعث یہ تھا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور تمام کفار کے اموال لوٹ کر ہمارے سپرد کر دیں گے اور ہم بڑے آرام سے زندگی بسر کریں گے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ دعویٰ کیا کہ میں ہی مسیح موعود ہوں اور میں ہی وہ مامور ہوں جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی تو مسلمانوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ کسی عیسیٰ اور مسیح نے نہیں آنا قرآن میں تواِس قسم کی کوئی خبر ہی نہیں اور اگر حدیثیں کہتی ہیں تو وہ غلط ہیں۔غرض یا تو پہلے تمام قوم کی بنیاد ہی اس امر پر تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور ہمارے گھروں کو زر وجواہر سے بھردیں گے اور یا آج یہ حالت ہے کہ وہ اُن تمام پیشگوئیوں سے منکر ہو گئے ہیں جو مسیح موعود کے متعلق پائی جاتی ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں کسی مسیح کی ضرورت نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ۔چاہیے تھا کہ قرآن کریم کے نازل ہونے پر وہ اُن تعلیموں پر غور کرتے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُن کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔مگر ہوا یہ کہ جتنا حق وہ پہلے مانتے تھے اُس کو بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور صداقت سے اور بھی دُور چلے گئے۔