تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 50
اپنے کام کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اب بتائیے ہم سے بڑ ھ کر بھی دنیا میں کوئی محنت کرتا ہے؟آپ فرماتے تھے جب اس نے یہ جواب دیا تو میں نے سمجھ لیا کہ اس شخص کی فطرت بالکل مسخ ہو چکی ہے اب اس کو چوری کی برائی کا قائل کرنے کے لئے کسی اور طریق سے کام لینا چاہیے۔چنانچہ میں نے اس سے گفتگو کا رخ بدل لیا اور بعض اور امور کے متعلق باتیں کرتا رہا۔جب کچھ دیر گذر گئی تو میں نے اس سے کہا اچھا یہ بتائو کہ تم چوری کرتے کس طرح ہو اور کتنے آدمی اس میںشریک ہوتے ہیں؟ کہنے لگا حکیم صاحب بات یہ ہے کہ چوری کے لئے کئی آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے سب سے پہلے تو ہم گھر کے کسی آدمی کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں جو ہمیں بتاتا ہے کہ کتنے کمرے ہیں، ان کمروںکاکیا نقشہ ہے اور کس کس رخ میں وہ واقعہ ہوئے ہیں تا کہ ہم پکڑے نہ جائیں۔پھر ہمیں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کس کس جگہ مال پڑا ہوا ہے، کون سے ٹرنک میں زیورات ہیں، اس ٹرنک کا رنگ کیسا ہے اور وہ کس کونے میں رکھا ہوا ہے یااگر روپیہ کہیں دبا کر رکھا ہوا ہے تو کس جگہ دبایا ہوا ہے۔یہ سب باتیں ہم اس سے دریافت کر لیتے ہیں۔اس کے بعد ہم ایک ایسے شخص کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں جو سیندھ لگانے میں ماہر ہوتا ہے تا کہ وہ اس طرح سیندھ لگائے کہ کسی کو پتہ تک نہ لگے اور باوجود دیوار توڑنے کے کوئی آواز پیدا نہ ہو۔وہ سیندھ لگا کر الگ ہو جاتا ہے کیونکہ سیندھ لگانے کا اس کی طبیعت پراتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ مزید کوئی کام کرنے کے ناقابل ہوتا ہے۔اس کے بعد تیسراشخص آگے آتا ہے جسے گھر کا نقشہ یاد کرایا ہوا ہوتا ہے وہ اندر داخل ہوتاہے اور جہاںجہاں اسباب ہوتا ہے وہاں سے اٹھا کر باہر پہنچا دیتا ہے اس وقت دیوار کے پاس ہی ہمارا ایک آدمی تیار کھڑا ہوتا ہے جوں جوں وہ اسباب پہنچاتاجاتا ہے ہمارا آدمی اس کو سمیٹتا چلا جاتا ہے اور ایک آدمی ایسا ہوتا ہے جو دور ایک کونے میں کھڑا رہتا ہے تا کہ اگر کوئی آدمی گذر رہا ہو تو وہ اطلاع دے سکے۔جب اس طرح چوری کے کام سے ہمیں فراغت ہو جاتی ہے تو گھر پہنچ کر ہم تما م زیورات ایک سُنار کو دے دیتے ہیں جوان کو گلا کر سونے کی ڈلیاں بنا دیتا ہے کیونکہ زیورات اپنی اصل شکل میں ہم فروخت نہیں کر سکتے اگر کریںتو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں پکڑے نہ جائیں۔اس لئے ہم نے سُنار رکھا ہوا ہوتا ہے تا کہ جونہی کوئی زیور آئے فوراً اس کو گلا دیا جائے۔حضرت خلیفہ اوّلؓ فرماتے تھے جب اس نے یہ داستان بیان کی تو میںنے کہا تمہاری اتنی محنت اور عرقریزی کے بعد اگر وہ سُنار اُس سونے کو کھا جائے تو پھر؟ اس پر وہ بےاختیار ہو کر بولا اگر وہ چوری کرے تو ہم اس بے ایمان اور خبیث کا سر نہ اڑا دیں۔ہم تو کبھی اس کو زندہ نہ رہنے دیں۔میں نے کہا ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ چوری کوئی عیب کی بات نہیںاور ابھی کہہ رہے ہو کہ وہ خبیث چوری کرے تو اس کا سر اڑا دیں۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ خود تمہاری فطرت چوری کو ناپسند کرتی ہے اور وہ اسے خباثت اور بےایمانی