تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 49

اچھا سمجھتا ہو یا اچھے کام کو بُرا سمجھتا ہو مگر یہ احساس اس کے اندر ضرور پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ چیزیں اچھی ہیں اور کچھ چیزیں بُری ہیں۔مجھے اچھی چیزیں اختیار کرنی چاہئیں اور بُری چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔اَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا میں ہستی باری تعالیٰ کے لئے ایک زبردست دلیل یہی معنے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا کے ہیں کہ ہرانسان یہ کہتا ہے کہ کچھ بُری چیزیں ہیں اور ہر انسان یہ کہتا ہے کہ کچھ اچھی چیزیں ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر انسان میں بُری اور اچھی چیزوں کے امتیاز کا مادہ رکھا گیا ہے اور جب یہ بات ہے تو دلیل مکمل ہو جاتی ہے یعنی جب ہر انسان کے اندر یہ مادہ پایا جاتاہے کہ وہ کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو بُرا کہتا ہے تو ضروری ہے کہ کوئی ایسی ہستی بھی ہو جو اسے بتائے کہ کون کون سی چیزیں اچھی ہیں اور کون کون سی چیزیں بُری ہیں۔یہ دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کے ثبوت میں لوگوںکے سامنے پیش کی ہے اور یہ وہ دلیل ہے جس کا کوئی رد کسی بڑے سے بڑے دہریہ کے پاس بھی نہیں ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے لوگ بالعموم اس دلیل کو پورے طور پر سمجھتے نہیں اور وہ ایسے رنگ میں اسے مخالف کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جو اپنے اندر کمزوری رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اس دلیل کا اپنی کتب میںبعض جگہ ذکر فرمایا ہے مگر لوگ پھر بھی جب نفسِ لوّامہ کی شہادت پیش کریں گے اس رنگ میں پیش کریں گے کہ ہر شخص جھوٹ کو بُرا سمجھتا ہے یا ہر شخص قتل اور چوری کو بُرا سمجھتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ جہاں تک سب کانشس مائینڈ کا سوال ہے اس کے لحا ظ سے یہ سب باتیں بُری ہیں اور ہر انسان سب کانشس مائینڈ میں ان کو بُرا سمجھتاہے مگر کانشس مائینڈ میں وہ ان کو بُرا نہیں سمجھتا اور نہ وہ بحث کے وقت ان چیزوںکی بُرائی کا قائل ہو سکتا ہے اور اگر قائل بھی ہو تو لمبی بحث کے بعد ہوتا ہے جس میں سب کانشس مائینڈ سے ان چیزوں کی بُرائی اس کے کانشس مائینڈ میں لانی پڑتی ہے مگر ایسا ہر شخص نہیں کر سکتا یہ ماہرفن کا ہی کام ہوتا ہے کہ وہ سب کانشس مائینڈ سے کانشس مائینڈ میں کسی چیز کو منتقل کردے۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس ایک دفعہ ایک چور علاج کے لئے آیا۔میںنے اسے نصیحت کی کہ تم نے کیا لغو پیشہ اختیار کیا ہوا ہے تمہیں چاہیے کہ محنت کرو اور کمائو۔یہ کیسی بُری بات ہے کہ تم چوری جیسا ذلیل کام کرتے ہو اور تمہیں ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔تم مضبو ط اور ہٹے کٹے ہو محنت کر واور کمائو چوری کیوںکرتے ہو؟ وہ کہنے لگا مولوی صاحب ہمارے جیسی محنت بھی دنیا میں کوئی شخص کرتا ہے؟ لوگ تو دن کو محنت کرتے ہیں لیکن ہم وہ ہیں جو رات کو محنت کرتے ہیں۔سخت سردی کے دن ہوتے ہیں، جسم ٹھٹھررہے ہوتے ہیں، تاریکی سے قدم قدم پر ٹھوکریں لگتی ہیں، جان کا خوف ہوتا ہے مگر پھر بھی ہم ان تمام باتوں کو نظر اندا ز کرتے ہوئے