تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 515
جا سکتے ہیں یا مسلمان یا کافر۔وہ ان مسیحیوں یا ان یہودیوں یا ان ہندوئوں یا ان زرتشتیوں یا ان شنٹوازم کے ماننے والے جاپانیوں یا کنفیوشس کے ماننے والے چینیوں کو جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کانام بھی نہیں سُنا کیا قرار دیں گے؟ کیا یہ کہیں گے کہ وہ مسلمان ہیں؟ یہ تو صاف بات ہے کہ مسلمان کے نام سے وہی بلوائے جاتے ہیں جنہوں نے کلمہ طیّبہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا اور جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی طور پر یا ظاہر میں ایمان لانا نصیب ہوا۔جب مسلمان کی ظاہری تعریف یہ ہے کہ وہ کلمہ طیّبہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان ظاہر کرتا ہو تو یہ بات واضح ہو گئی کہ جنہوں نے کلمہ طیّبہ نہیں پڑھا اور جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا نصیب نہیں ہوا اُنہیں بہرحال ہم کافر ہی کہیں گے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان کے کفر کے باوجود اُن کو سزا نہیں ملے گی۔سزا صرف اُن لوگوں کو ہو گی جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا یعنی ان کے کانوں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا اُن پر حُجت تمام ہوئی اور پھر بھی وہ اپنے کفر پر قائم رہے، اسلام میں داخل ہونے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور انبیاء تو الگ رہے اپنی ذات کے متعلق بھی یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ مجھے نہ ماننا (بشرطیکہ کسی پر حُجت تمام نہ ہوئی ہو) انسان کو دوزخی نہیں بناتا ہاں اسے کافر ضرور بنا دیتاہے چاہے دنیا کے وہ کسی کونہ میں رہنے والا ہو اور چاہے اُس نے سات پشت سے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ سُنا ہو وہ کافر ہو گا اور ضرور ہو گا مگر سزا اتمام حُجت کے بعد ہوتی ہے اس سے پہلے نہیں۔گویا یہ قاعدہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے سزا کے متعلق ہے کفر کے متعلق نہیں۔چنانچہ صریح طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو الگ الگ تقسیمیں کر دی ہیں کفر کو الگ قرار دیا ہے اور سزا کو الگ قرار دیا ہے۔یہی عقیدہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے متعلق ہے کہ جس شخص نے حضرت مرزا صاحب کا نام بھی نہیں سُنا وہ کافر ہے مگر ہم اسے دوزخی قرار نہیں دے سکتے نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس شخص نے حضرت مرزا صاحب کا نام بھی نہیں سُنا وہ جہنمی ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں اُس کا دوبارہ امتحان لے اور ممکن ہے فطرتی ایمان پر ہی اُس کو بخش دے۔بہرحال ہم اُس کی سزا کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے مگرہم اس بات پر مجبور ہیں کہ اُسے کافر قرار دیں کیونکہ اسلام میں دو ہی اصطلاحیں ہیں۔ایک اصطلاح مومن کی ہے اور ایک اصطلاح کافر کی ہے جس نے کسی نبی کو مان لیا وہ مومن ہے اور جس نے کسی نبی کو نہیں مانا وہ کافر ہے۔چاہے اُس کا نہ ماننا عدمِ علم کی بناء پر ہو اور چاہے اُس کا نہ ماننا کسی شرارت کی بناء پر ہو۔اگر اُس نے عدمِ علم کی وجہ سے کسی نبی کو نہیں مانا تو وہ کافر یعنی نہ ماننے والا تو ہے مگر دوزخی نہیں اور اگر کسی نے شرارت سے نہیں مانا تو وہ کافر