تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 465

بلاتے ہیں اور تمہارا اپنا فائدہ اس میں ہے کہ تم ان کی آواز سنو۔انہی مردوں کی نسبت یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔یعنی ان پر رات طاری ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ يَّشَاْ يَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (الانعام : ۴۰) یعنی وہ لوگ جو ہمارے نشانوں کا انکار کرتے ہیںبہرے اور گونگے ہیں اور اندھیروں میںپڑے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ جس کی نسبت چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور جس کی نسبت چاہتا ہے اسے سیدھے راستہ پر ڈال دیتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ(المائدۃ: ۱۷) یعنی یہ رسول لوگوں کو تاریکیوں میں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔آنحضرت صلعم کا بروقت دعویٰ نبوت مذکورہ بالاآیات سے ظاہر و ثابت ہے کہ جب بھی دنیا پر روحانی تاریکی چھاجاتی ہے اور لوگ روحانی طور پر مر جاتے ہیںاللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رسول ضرور مبعوث ہوتا ہے۔پس ان معنوں کی رو سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مین جو شدید ترین تاریکیوں کا زمانہ تھا ایک نبی کا مبعوث ہونا ضروری تھا اور آپ کا دعویٰ بالکل مناسب وقت پر تھا۔دنیا پیاسی ہورہی تھی اسے آسمانی پانی کی ضرورت تھی اس پر موت طاری تھی اسے ایک زندہ کرنے والی ہستی کی احتیاج تھی۔دنیا پر ایک تاریک رات طاری تھی اسے ایک روحانی سورج کی ضرورت تھی جو رات کی ظلمت کو دور کرے اور اسے ایمان کی روشنی بخشے۔اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ایک دوسری آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سِرَاجًا مُّنِيْرًا (الاحزاب:۴۷) قرار دیا ہے۔غرض یہ فرماکر کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃالقدر میں نازل فرمایا ہے آپ کی صداقت کی ایک ایسی زبردست دلیل دی گئی ہے جس کا کوئی مذہب انکار نہیں کر سکتا۔کون سا مذہب ہے جو اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ دنیا پر جب جب بھی ظلمت اور تاریکی کا دورہ آتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور اسے روشنی بخشنے کے لئے ضرور اس زمانہ میں مبعوث ہو تا ہے۔بائبل بھی اس پر متفق ہے۔مسیحؑ کیوں آیا؟ اسی لئے کہ بنی اسرائیل پر ایک رات طاری ہو گئی تھی۔ہندو مذہب کرشن جی کی دوبارہ بعثت کا کیوں امید وار ہے؟ اس لئے کہ وہ زمانہ کلجگ کا ہو گا۔بدھ مت اور زردشت مذہب بھی اسی امر کے مدعی ہیں کہ جب جب تاریکی کا زمانہ دنیا میں آئے گا خدا تعالیٰ کے مامور بھی ظاہر ہوتے رہیں گے۔پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ سب سے زیادہ تاریک زمانہ جس میں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا گذر رہی تھی اس میں کوئی مامور مبعوث نہ ہوتا۔اگر ایسا ہوتا تو سب مذاہب جھوٹے ثابت ہو جاتے۔خدا تعالیٰ کا وجود ایک واہمہ بن کر رہ جاتا۔پس