تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 455
گئی جس رنگ میں کہ سورج کو روشنی دینے کی قدرت حاصل ہے جب سے سورج بنا ہے وہ روشنی دیتا ہے اور یکساں روشنی دیتا ہے لیکن اسی کو دیتا ہے جو اس کے لئے اپنے دروازے کھول دیتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے روحانیت کا نور بخشنے کی طاقت بخشی ہے اور اسی دن سے بخشی ہے جب سے کہ آپ نبی ہوئے ہیں اور یہ طاقت گھٹتی بڑھتی نہیں۔یہ نہیں کہ پہلے دن آپ کا فیض کم تھا اور بعد میں زیادہ ہو گیا جس طرح سورج کی روشنی پہلے دن سے ایک سی ہے اسی طرح آپ کا فیضان نبوت کی پہلی گھڑی سے یکساں ہے نہ اس وقت زیادہ اوراب کم۔نہ اس وقت کم تھا اور اب زیادہ ہے۔صرف روشنی لینے والے کے ظرف کا فرق ہے۔جس طرح زیادہ کھلے دروازوں والے مکان میں روشنی زیادہ پڑتی ہے اور تنگ دروازوں والے مکان میں کم روشنی پڑتی ہے اسی طرح جو اپنے دل کو وسیع کرتا ہے آپ کے فیض مبارک سے زیادہ حصہ پا لیتا ہے اور جو اپنے دل کو تنگ کرتا ہے وہ کم حصہ پاتا ہے۔لیکن جہاں تک آپ کے فیضان کا تعلق ہے وہ شروع سے اس وقت تک یکساں رہا ہے اور قیامت تک یکساں رہے گا۔غرض جس رات قرآن کریم نازل ہوا اسی رات یک دم کامل طور پر ظاہر ہونے والی جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی قدرتیں ظاہر ہوئیں اور ایسے کامل طور پر ظاہر ہوئیں کہ اس سے پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں۔دوسری قسم قدرت کی وہ ہے جو بیج کی طرح پیدا ہو کر آہستہ آہستہ پھیلتی ہے۔اس قدرت کی جسمانی اور روحانی دونوں قسموں کا ظہور اس رات میں ہوا۔چنانچہ انہی آیات میں جو اس دن آپؐپر نازل ہوئیں یہ آیت ہے خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ جس کے ایک یہ معنے ہیں کہ انسان کی پیدائش یک دم نہیں ہوئی بلکہ وہ پہلے خون کا ایک چھوٹا سا لوتھڑا ہو تا ہے پھر آہستہ آہستہ ترقی کر کے کمال کو پہنچتا ہے اسی طرح اسلام کی جسمانی اور روحانی ترقی ہوگی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے دن اسلام کی گٹھلی جو سورۂ علق کے ذریعہ سے رکھی گئی بڑھتے بڑھتے قرآن کریم کے درخت کی شکل اختیار کر گئی جو اس کا جسمانی ارتقاء تھا۔درحقیقت سارا قرآن ان چند آیتوں کی تفسیر ہے جو پہلے دن نازل ہوئیں کیا ہی لطیف خلاصہ قرآنی تعلیم کا یہ آیات ہیں اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔اپنے رب کے نام سے پڑھ۔یعنی ان صفات الٰہیہ کا اظہار کر جو اس وقت تک تجھ پر روشن ہو چکی ہیں کیونکہ وہ انکشاف جو تجھ پر صفات الٰہیہ کا ہوا ہے وہی درست ہے اور اس کے سوا سب تشـریحیں صفات الٰہیہ کی غلط ہیں۔الَّذِيْ خَلَقَ یعنی جس نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے۔اس لئے سب مخلوق پر اس کا تصرف ہے اور وہ اس کے قبضہ میں ہے توحید باری کا اعلان کرنے کے بعد دنیا تیری مخالفت کرے گی مگر گھبرانے کی بات نہیںآخر مخلوق اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہے جب تو خالق کی فرمانبرداری میں لگا ہو گا تو مخلوق تیرا کیا بگاڑ سکتی ہے خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اور یاد رکھ کہ گو تیری باتیں اس وقت تیرے مخاطبوں کو