تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 444
حقیقت یہ ہے کہ نبی کی زندگی اس کے کلام سے الگ نہیں کی جا سکتی بغیر ایک نبی کی زندگی کے حالات معلوم ہونے کے ہم اس کی تعلیم کو بھی اچھی طرح نہیںسمجھ سکتے۔نبی اپنے الہام کے لئے بمنزلہ آئینہ کے ہے اور ا س کا الہام اس کی زندگی کے لئے بطور ایک آئینہ ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے کو روشن کرتے ہیں اور اس دوہری روشنی ہی سے دنیا ہدایت پاتی ہے اس لئے ہر نبی کا کلام اس کی زندگی کے مختلف حالات پرروشنی ڈالتا ہوا ایک لمبے عرصہ میں ختم ہوتا ہے ایک طرف وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے تازہ ظہور پر روشنی ڈالتا ہے دوسری طرف اس کی حالت جو ا س کے دشمنوں کی نسبت سے ہوتی ہے اس کے تغیرات پر روشنی ڈال کر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا ثبوت پیش کرتا ہے۔تیسری طرف وہ ان مختلف حالات میں نبی کے ایمان اور ا س کے یقین کے مختلف اظہاروں کو پیش کر کے اس کی دیانتداری ، اس کے ایثار اور اس کے روحانی کمالات کو پیش کرتا ہے۔اگر شروع میں ہی ایک ہی رات میں کلام نازل ہو جائے تو اس میں یہ باتیں کب جمع ہو سکتی ہیںاور اگر یہ باتیں کسی کلام میںجمع نہ ہوں تو وہ دنیا کی ہدایت اور رشد کا سامان پیدا ہی کب کر سکتا ہے پس ضروری ہے کہ سب نبیوں پر آہستہ آہستہ کلام نازل ہو جس میں ا س تمام روحانی رفعت کی جھلک ملتی ہو۔جو وہ نبی اپنے نبوت کے راستہ پر چلتے ہوئے حاصل کرتا گیا۔تا دنیا کے سامنے اس کی ابتداء بھی ہو اور درمیانی زمانہ بھی اور اس کی انتہا بھی۔یہ خیال کہ پہلے سب نبیوں پر یک دم کلام الٰہی نازل ہواتھا سورۂ فرقان کی آیت لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً (الفرقان:۳۳) سے پیدا ہوا ہے۔مسلمان مفسروں نے اس سے یہ استدلال کیا کہ شاید سب نبیوں پر پہلے جُمْلَةً وَّاحِدَةً کلام نازل ہوتا تھا(تفسیر البغوی المسمّی معالم التنزیل زیر آیت وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً) تبھی دشمنوں نے یہ اعتراض کیا۔حالانکہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن کریم میں یہ اعتراض کفار مکہ کی طرف سے نقل کیا گیا ہے اور کفار مکہ تو کسی کتاب کے قائل ہی نہ تھے کجا یہ کہ وہ اس بات کے قائل ہوں کہ سب پہلے کلام الٰہی یک دم نازل ہوئے تھے اگر یہود و نصاریٰ کی طرف سے یہ اعتراض نقل کیا جاتا تب تو یہ شبہ پیدا بھی ہو سکتا تھا لیکن انہوں نے یہ اعتراض نہیں کیا اس لئے اس اعتراض کی وجہ سے یہ قیاس کرنا کہ پہلے چونکہ یک دم کلام نازل ہوتا تھا اس لئے قرآن کریم پر اعتراض کیا گیا کہ کیوں یہ ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا بالکل درست نہیں اور قیاس مع الفارق ہے کفار مکہ کے اعتراض کا یہ باعث نہ تھا کہ پہلے نبیوں پر تو ایک دن ہی سب کلام نازل ہو جاتا تھا اور آپ پر آہستہ آہستہ کلام اتر رہا ہے کیونکہ وہ تو نہ نبوت کے قائل تھے نہ کلام الٰہی کے۔ان کے اعتراض کی بناء تو محض عقلی تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ نے کلام نازل کیا ہوتا تو یک دم کر دیتا کیونکہ وہ عالم الغیب ہے۔کلام کے