تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 423
کرتا تھا۔پس خالی بلالؓ کی اذان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہوتا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو بلالؓ کا وہ واقعہ یاد تھا جب اسے پتھروں کے نیچے کچلا جاتا مگر وہ پھر بھی یہی کہتا کہ اَسْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں تو آج کا سین نظر آتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو وہ سین یاد ہے جو پتھروں کے نیچے بلالؓ کی زبان سے نکلا کرتا تھا۔اس لئے بلالؓ جب اذان دیتا اور اَسْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آواز کو سن کر عرش پر خوش ہوجاتا ہے۔ان حالات کو اگرمدنظر رکھا جائے تو پھر کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا کہ ابوجہل کے سر کے بالوں سے گھسیٹ کر گڑھے میں ڈالنا ظلم تھا۔میں سمجھتا ہوں وہ مؤرخ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ وحشت سے کام لیا وہ کبھی حقیقت حال پر غور نہیں کرتے۔اگر وہ مسلمانوں کی جگہ اپنے باپ یا اپنی بیوی یا اپنے بچہ کو رکھیں اور عالم تصورمیں ان مظالم کا نقشہ اپنے ذہنوں میں لائیں جو مسلمانوں پر ڈھائے جاتے تھے تو اس کے بعد یقیناً وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل کو ظلم قرار نہ دیں بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ نہایت ہی نرم سلوک کیاہے۔موجودہ جنگ یورپ کو ہی دیکھ لو کیا کیا مظالم ہیں جو ایک دوسرے پر ڈھائے گئے ہیں اور کس طرح دشمن سے انتقام لینے کے لئے بربریت کے نظارے پیش کئے گئے ہیں۔حالانکہ اس زمانہ کے لوگ اپنے آپ کو تہذیب و تمدن کے اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے تصور کرتے ہیں۔مگر مسلمانوں نے تو کوئی ظلم بھی نہیں کیا۔صرف بدرکے موقعہ پر چند ایسے مردوں کو گھسیٹ کر گڑھے میں ڈال دیا جو مسلمانوں کو سالہاسال تک تپتی ریت اور سخت پتھروں پر گھسیٹتے اور گھسٹواتے رہے تھے۔پس فرمایا جس طرح یہ لوگ ہمارے بندوں کو ان کے بال پکڑ پکڑ کر گھسیٹتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان کے بالوں سے ان کو گھسیٹیں گے۔مگر یہ خیال نہ کرنا کہ ہم ظلماً ایسا کریں گے۔کیونکہ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ایسی نَاصِيَةٍ گھسیٹی جائے گی جو كَاذِبَةٍ جھوٹی تھی خَاطِئَةٍ خطاکار تھی اور مجرم کو سزا دینا ظلم نہیں کہ تم یہ کہہ سکو کہ انہیں کیوں گھسیٹا جائےگا۔گھسیٹا اس لئے جائے گا کہ وہ مجرم اور خطاکار ہیں اور دنیا کا کوئی قانون مجرم کو سزا دینا ظلم قرار نہیں دیتا۔فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗۙ۰۰۱۸ پس (کافر کو) چاہیے کہ وہ اپنی مجلس کو بلائے۔حلّ لُغات۔اَلنَّادِیْ اَلنَّادِی عربی زبان میں اس مجلس کو کہتے ہیں جس میں دن کے وقت لوگ بیٹھ کر