تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 422

دے دے کر مارا جاتا ہے۔ایسی صورت میں قاتل کو صرف قتل کی سزا ہی دی جائے گی یا تعذیب کی سزا بھی اسے ملے گی؟ میں نے اسے جواب میں کہا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا (الشورٰی:۴۱) یعنی بدی کی سزا برے فعل کے مطابق دی جانی چاہیے۔پس میرا فتویٰ یہی ہے کہ قتل کے بدلہ میں قتل اور تعذیب کے بدلہ میں تعذیب۔گو عام حالات میں قتل کے بدلہ میں قتل ہی کیا جائے گا لیکن اگر کسی وقت مصلحت کے ماتحت لوگوں کو تعذیب اور شرارت سے روکنے کے لئے یہ فیصلہ کردیا جائے کہ قتل کے بدلہ میں قتل ہوگا اور تعذیب کے بدلہ میں تعذیب تو یہ بالکل جائز ہوگا۔بے شک وہ لوگ جنہوں نے اس زمانہ کے حالات پر کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بڑی سختی کی گئی کہ ایک مردہ کو بالوں سے گھسیٹ کر گڑھے میں پھینکا گیا۔مگر انہیں بھول جاتا ہے کہ یہاںتو کسی مردہ کو صرف ایک دفعہ گھسیٹا گیا ہے اور وہ لوگ سالہا سال زندوں کو پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور ابھی ان کے زخم تازہ ہی ہوتے تھے کہ دوسرے دن پھر ان کو پتھروں پر گھسیٹنا شروع کردیا جاتا اور پھر وہ صرف پتھروں پر گھسیٹتے ہی نہیں تھے بلکہ بسا اوقات ان کے سینہ پر بڑے بڑے وزنی پتھر رکھ دیتے، ان پر کھڑے ہوکر خود ناچنا کودنا شروع کردیتے اور کہتے کہو کہ ہم لات اور عزّیٰ کو اپنا معبود مانتے ہیں۔یہی وہ چیز تھی جس کی بناء پر ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کی خاص طور پر تعریف کی اور لوگوں سے فرمایا کہ بلال جب اذان دیتا ہے اور اَشْهَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی بجائے اَسْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ بلال کے اس س پر خاص طور پر خوش ہوتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ میں آئے اوربلالؓ نے اذان دی تو چونکہ مدینہ کے لوگ بلالؓ سے ناواقف تھے جب انہوںنے اَشْهَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی بجائے اَسْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا تو لوگ ہنسنے لگ گئے۔بلالؓ حبشی تھے اور اس وجہ سے وہ تلفظ صحیح طور پرادا نہیں کرسکتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے مجلس میں فرمایا لوگ بلال کے سین پر ہنستے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر اس سین کو سن کر خوش ہوتا ہے۔اس کی وجہ دراصل یہی ہے کہ مکہ میں بلال کے سینہ پر جب بڑے بڑے پتھر رکھ کر کہا جاتا کہ کہو لات اور مناۃ اور عزیٰ سچے معبود ہیں تو بلال خاموش نہ رہتے بلکہ پتھروں کے نیچے سخت تکلیف کی حالت میں بھی یہی کہتے کہ اَسْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔چونکہ اس وقت وہ سین کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھا کرتے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بلال اَسْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ عرش پر خوش ہوتا ہے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بلال سے وہ سین سنا ہوا تھا جو پتھروں کے نیچے اور مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے اس کی زبان سے نکلا