تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 402
مسلمانوں کا نام نہ لینا۔اگر تم نے نیچے حوالہ دے دیا اور یہ ذکر کردیا کہ یہ موسیقی مسلمانوںسے لی گئی ہے تو ان کی عظمت قائم ہوجائے گی۔اس لئے نقل تو بے شک کرو مگر مسلمانوں کا نام نہ لو تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ تم یہ علم اپنی طرف سے بیان کررہے ہو۔غرض یورپ نے چاہا کہ یہ بات پوشیدہ رہے کہ اس نے مسلمانوں سے تمام علوم حاصل کئے ہیں مگر یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکی۔آج خود عیسائیوں میں ایسے لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو بڑے زور سے اپنی قوم کی اس احسان فراموشی کا کتابوں میں اعلان کرتے ہیں۔اسی طرح فن تعمیر، قالین بافی اور عمارتوں پر رنگ دار بیل بوٹے بنانے یہ تمام علوم وہ ہیں جو یورپ نے مسلمانوں سے سیکھے۔چنانچہ اس کا ایک ثبوت میں خود ولایت میں دیکھ کر آیا ہوں۔برائٹن میں ایک پرانا شاہی قلعہ ہے اس کی دیواروں پر بیل بوٹے بنانے کے لئے عیسائیوں کو سارے یورپ میں کوئی آدمی نہ ملا۔آخر انہوں نے مسلمان ماہرین کو بلایا اور وہ وہاں بیل بوٹوں کی بجائے جگہ جگہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ لکھ کر آگئے۔یہی ان کا عمارت کو سجانا تھا اور یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ اس فن کی ایجاد کا سہرا مسلمانوں کے سر پر ہے۔غرض یورپ کے پاس کوئی ایک چیز بھی نہیں تھی اس نے جو کچھ سیکھا سپین کے مسلمانوں سے سیکھا اور سپین نے جو کچھ سیکھا شام سے سیکھا اور شام والوں نے جو کچھ سیکھا قرآن سے سیکھا۔پس دنیا کے تمام علوم قرآن سے ہی ظاہر ہوئے ہیں اور اب قیامت تک جس قدر قلمیں چلیں گی قرآن کریم کی خدمت اور اس کے بیان کردہ علوم کی ترویج کے لئے ہی چلیں گی۔آج یورپ میں جتنی کتابیں نکل رہی ہیں وہ سب کی سب عَلَّمَ بِالْقَلَمِ کی تصدیق کررہی اور اللہ تعالیٰ کی اس پیشگوئی کو سچا ثابت کررہی ہیں کہ قلم کے ذریعہ قرآن کریم کو پھیلایا جائے گا۔عرب ہر قسم کے علوم سے نابلد تھے لیکن قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد وہ تمام دنیا کے استاد بن گئے اور فلسفہ جس پر یورپ کو آج بہت بڑا ناز ہے اس کے بھی وہی موجد قرار پائے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلسفہ یورپ کی ایجاد ہے لیکن ایک یوروپین فلاسفر نے اس کو بالکل غلط قرار دیا ہے۔وہ لکھتا ہے فلسفہ ہم نے شروع سے لے کر آخر تک اشعری سے لیا ہے۔اگر ہمارے فلسفہ میں کسی کو کوئی اچھی بات نظر آتی ہے تو اس تعریف کے مستحق ہم نہیں بلکہ اشعری اس تعریف کا مستحق ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علوم میں ہمیشہ ترقی ہوتی رہتی ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کوشش کرتی ہے کہ اس کا علمی مقام پہلے سے بلند ہوجائے لیکن اس کے باوجود بیج اپنی ذات میں جو قیمت رکھتاہے اس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔درخت کا پھیلائو خواہ کس قدر بڑھ جائے بیج کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔اسی طرح علوم خواہ