تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 393
غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خدا تعالیٰ کی اتنی شدید محبت تھی اور شیطان کی اتنی شدید نفرت آپ کے قلب میں پائی جاتی تھی کہ آپ فرماتے ہیں کہ اگر شیطان بھی میرے پاس آئے تو مجھ پر شیطان کا رنگ نہیں چڑھے گا بلکہ میرا رنگ اس پر چڑھ جائے گا۔یہ کمال درجہ کی نفرت ہے کہ شیطان کا آپ سے ٹکرائو ہوتا ہے تو شیطان آپ پر غالب نہیں آسکتا بلکہ آپ شیطان پر غالب آجاتے ہیں اور نہ صرف اس رنگ میں غالب آتے ہیں کہ اس کے برے اثر کو قبول نہیں کرتے بلکہ خود اس پر اپنا رنگ چڑھا کر اسے مسلمان بنادیتے ہیں۔دنیا کی تاریخ پر غور کرکے دیکھ لو صرف ایک ہی وجود ایسا نظر آئے گا جس نے یہ دعویٰ کیاہے کہ میں خدا تعالیٰ سے ایسا کامل تعلق رکھتا ہوں کہ مجھ میں اور اس میں کوئی دوئی نہیں رہی اور شیطان سے مجھے اتنی کامل نفرت ہے کہ وہ کسی رنگ میں بھی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔اگر وہ میرے پاس آئے تومیں ہی اس پر غالب آئوں گا یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مجھے مغلوب کرلے یا مجھے برائیوں میں ملوث کرسکے۔پس تعلق کا کمال دنیا میں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے اور تعلق پیدا کرنے والی تعلیم کا کمال قرآن کریم نے پیش کیا ہے کہ اس کے لفظ لفظ اور حرف حرف سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا عشق پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہورہا ہے۔دشمن سے دشمن عیسائیوںکی کتابیںجب ہم پڑھتے ہیں تو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت پر جتنا زور قرآن کریم نے دیا ہے اتنا زور دنیا کی اور کسی کتاب میں نظر نہیں آتا۔کوئی صفحہ اُٹھا کر دیکھ لو اس میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کا ذکر آئے گا اور بات بات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ کیا جائے گا اور یہ کیفیت کسی ایک سورۃ یا ایک پارہ سے مخصوص نہیں۔بِسْمِ اللّٰهِ سے لے کر وَالنَّاسِ تک قرآن کریم پڑھ جائو اس کا کوئی صفحہ ایسا نظر نہیں آئے گاجس میں بار بار اللہ تعالیٰ کا نام نہ آتا ہو اور بار بار اللہ تعالیٰ کی محبت پر زور نہ دیا گیا ہو۔باقی کتابوں کی یہ حالت ہے کہ ان میں کہیں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص پہاڑ پر گیا اور لوگوں نے اسے بھونی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا اور شہد کا چھتہ کھانے کو دیا(لوقا باب ۲۴ آیت ۴۱،۴۲)۔کہیں لکھا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں پر جن بھوت سوار تھے وہ حضرت مسیحؑ کے پاس آئے انہوں نے ان جنات کو نکال کر سؤروں کے غول میں ڈال دیا اور وہ سؤر سب کے سب پانی میں ڈوب کر مر گئے(متی باب ۸ آیت ۲۸تا۳۳)۔غرض ایسی ایسی باتیں لکھی ہوئی ہوتی ہیں کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے مگر قرآن کریم کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کے نام سے خالی ہو۔تورات کے صفحوں کے صفحے، بقیہ بائبل کے صفحوں کے صفحے اور انجیل کے صفحوں کے صفحے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی ہیں۔لیکن قرآن وہ کتاب ہے جس کا کوئی ایک صفحہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہیں۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ الگ مضمون بھی ہوسکتا ہے اور پہلے خَلَقَ یعنی