تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 392
ابراہیمؑ بھی آئے اور نوحؑبھی آئے مگر موسیٰ اور عیسیٰ اور ابراہیم اور نوح کی مثال پانچویں یا چھٹے ماہ کے بچہ کی سی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس نویں ماہ کے بچہ کی سی ہے جو تندرستی کی حالت میں پیدا ہوا۔تم پانچویں ماہ کے بچہ کو بچہ نہیں کہتے کیونکہ وہ کامل نہیں ہوتا۔تم چھٹے ماہ کے بچہ کو بچہ نہیں کہتے کیونکہ وہ کامل نہیں ہوتا تم صرف نویں ماہ کے بچہ کو بچہ کہتے ہو کیونکہ وہ کامل ہوتا ہے۔اسی طرح موسیٰ اور عیسیٰ کے ساتھ تمہاری تکمیل نہیں ہوسکتی۔تمہاری تکمیل وابستہ ہے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے۔ان کے بغیر دنیا اپنے مقصود کو حاصل نہیں کرسکتی۔غرض یہاں دونوں معنے ہوسکتے ہیں۔یہ بھی کہ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ سے مراد خون کا لوتھڑا ہے اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو ادنیٰ حالت سے ترقی دی ہے۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے محبت اور نفرت کے جذبات دے کر پیدا کیا ہے۔جب تک محبت اور نفرت کے جذبات اس میںکامل طور پر ظاہر نہ ہوجائیں اس وقت تک پیدائش انسانی کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتاتھا۔پس ایسی شریعت کا آنا ضروری تھا جو ایک طرف خدا تعالیٰ سے کامل محبت کی تعلیم دیتی اور دوسری طرف شیطان سے کامل نفرت کی تعلیم دیتی یا ایسا انسان ظاہر ہوتا جو ایک طرف اللہ تعالیٰ سے کامل اتصال رکھتا اور دوسری طرف شیطان سے کامل بُعد اس کی طبیعت میں پایا جاتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ دونوں دعوے قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى(النجم:۹،۱۰) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تعالیٰ سے محبت کا تعلق اس قدر بڑھا کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف تیزی سے بڑھے اور خدا تعالیٰ آپ کی طرف تیزی سے بڑھا۔یہ اس کامل اتصال کا ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ سے تھا۔دوسری طرف آپ کو شیطان سے اس قدر بُعد تھا کہ آپ فرماتے ہیں وَلٰکِنَّہٗ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ (صحیح مسلم کتاب صفات المنافقین و احکامھم باب تحریش الشیطان) کہ میرے شیطان کو مسلمان بنادیا گیا ہے یعنی اگر شیطان بھی میرے پاس آئے تو وہ مسلمان ہوجاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ مجھے کوئی بری تحریک کرے میرا رنگ اس پر چڑھ جاتا ہے اور مجھے برائی میں ملوث کرنے کی بجائے خود نیکی سے حصہ لینے لگ جاتا ہے۔یہ اس انتہاء درجہ کی محبت کا ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اللہ تعالیٰ کے متعلق پائی جاتی تھی کہ آپ کے پاس جو جو چیز آتی وہ اپنی خاصیت کو بدل کر اسی رنگ میں رنگین ہوجاتی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔جیسے کہتے ہیں ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک شد