تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 363
ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کون سا نیا علم بخشا گیا ہے یا کون سا معرفت کا نیا نکتہ تھا جو آپ پر نازل کیا گیا۔محض کسی آواز کا آجانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔آواز تو ایک پاگل کو بھی آجاتی ہے یا جب موسٰی کو اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ ’’میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خدااور یعقوب کا خدا ہوں۔‘‘ تو موسٰی کو اس سے کیا لطف آیا ہوگا یا کون سا عرفان ان کو حاصل ہوا ہوگا۔کیا اس کلام کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کہہ سکتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی بات بتائی گئی ہے جو پہلے میرے علم میں نہیں تھی یا عرفان کا ایک نیا باب میرے لئے کھول دیا گیا ہے یقیناً وہ ایسی کوئی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیحؑ پر اگر ایک کبوتری کی شکل میں روح القدس نازل ہوگیا اور آسمان سے یہ آواز آگئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے تو کیا ہوگیا۔یہ محض ایک بیان ہے اس سے زیادہ ان الفاظ کی کوئی حقیقت نہیں۔نہ ان میںعرفان کی کوئی بات ہے نہ علم و حکمت کا کوئی نکتہ ہے۔نہ تعلق باللہ کا کوئی راز ان میں منکشف کیا گیا ہے اورنہ کوئی اور ایسی بات بیان کی گئی ہے جو علم اور معرفت کی زیادتی کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔پھر یہ بھی قابل غور بات ہے کہ حضرت مسیحؑ نے کبوتر کی شکل میں روح القدس کے نازل ہونے کا جو نظارہ دیکھا اس کے متعلق یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی نظارہ نہیں تھا بلکہ دماغ کی خرابی کا ایک کرشمہ تھا کیونکہ جن لوگوں کو وہم ہوجاتا ہے وہ بعض دفعہ معمولی معمولی باتوں سے ایسے نتائج اخذ کرلیتے ہیں جو کسی اور انسان کے واہمہ میں بھی نہیں آتے۔مولوی یار محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے ان کے دماغ میں نقص تھا۔بعض دفعہ باتیں کرتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے تو مولوی یار محمد صاحب جھٹ کود کر آگے آجاتے اور سمجھتے کہ یہ اشارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے لئے کیا تھا۔اسی طرح جن میں وہم کا مرض پید اہوجاتا ہے وہ بعض دفعہ پرندوں کی پرواز سے فال لینا شروع کردیتے ہیں۔دائیں طرف سے کوئی پرندہ گزرجائے تو سمجھتے ہیں کہ ہمیں کام میں کامیابی ہوجائے گی اور اگر بائیں طرف سے گزرجائے تو سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں نحوست کا سامنا کرنا ہوگا۔اسی رنگ میں ہوسکتا ہے کہ جب یوحنا سے بپتسمہ پانے کے بعد حضرت مسیحؑ پانی سے باہر آئے ہوں تو کوئی کبوتر اڑ کر ان کے پاس آبیٹھا ہو اور انہوں نے سمجھ لیا ہو کہ یہ آسمان سے میرے پاس آیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدء وحی کا واقعہ بے شک ایک حقیقی نظارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ سے ہم کلام ہوا۔مگر اس کلام میں کوئی ایسی بات نہیں جس میں علم و عرفان کا کوئی خاص راز منکشف کیا گیا ہو یاکوئی ایسی بات بتائی گئی ہو جو دنیا کے لئے ایک نرالے پیغام کی حیثیت رکھتی ہو۔صرف موسٰی کو یہ کہا گیا کہ تو فرعون کے پاس جا اور بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نکال۔یہ محض ایک دنیوی بات ہے زیادہ سے زیادہ اسے سیاسی لحاظ سے اہمیت دی