تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 357
کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو وہ ڈر گئے اور ان کے کندھے کانپنے لگ گئے۔مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہاں صاف لکھا ہے کہ ’’موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا۔‘‘ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے ڈرنے کی وجہ سے اعتراض کیا جاسکتا ہے تو موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے بلکہ موسیٰ علیہ السلام پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ زیادہ سخت ہے کیونکہ ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ڈر کر اپنا منہ چھپالیا۔لیکن رسول کریم کے متعلق صرف اتنا لکھا ہے کہ آپ کے کندھے کانپنے لگ گئے اور یہ امر ظاہر ہے کہ بڑا آدمی اگر کسی بات سے گھبراتا ہے تو اس کے کندھے کانپنے لگ جاتے ہیں لیکن بچے جب کسی بات سے ڈرتے ہیں تو اپنا منہ چھپالیتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی بڑا آدمی ڈرے تو وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لے۔لیکن بچوں کو تم روزانہ دیکھو گے کہ جب وہ ڈرتے ہیں فوراً اپنا منہ چھپالیتے ہیں۔یہی بچوں والی حرکت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کی کہ خدا تعالیٰ کو دیکھا تو ڈر کر اپنا منہ چھپالیا۔یا کبوتر والی حرکت کی جو بلی سے ڈر کر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ روحانی لحاظ سے ایک جوان اور مضبوط آدمی کی حیثیت رکھتے تھے اس لئے آپ نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں صرف گھبراہٹ سے آپ کے کندھے ہلنے شروع ہوگئے۔پس جو اعتراض مستشرقین یورپ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جاتا ہے وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوتا ہے اور وارد بھی زیادہ بھیانک اور خطرناک شکل میں ہوتا ہے۔پھر لکھا ہے۔’’موسیٰ نے خدا کو کہا میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جائوں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکالوں‘‘ (خروج باب۳ آیت۱۱) عیسائی اعتراض کرتے ہیںکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی وحی پر شک کیا اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیا حال تھا۔اللہ تعالیٰ ان کو فرعون کی طرف جانے کا حکم دیتا ہے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں اس کی نصرت اور تائید پر بھروسہ رکھیں اور سمجھیں کہ جب اللہ تعالیٰ مجھے اس کام کے لئے بھیج رہا ہے تو وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا اس قدر شک کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ میری حیثیت ہی کیا ہے کہ میں فرعون کے پاس جائوں۔میں ایک غریب آدمی ہوں اور فرعون بڑا بادشاہ ہے۔میں تو اس کے پاس نہیں جاسکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کا اس قدر انکار کرنے کے باوجود مسیحی پادریوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے مقرب ہی رہتے ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر صرف اتنا فرماتے ہیں کہ