تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 31
جملہ کو مصدریہ بنا دیتاہے۔ا س صورت میں آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم آسمان اور اسے بنانے کی یعنی خدا تعالیٰ کی صنعت کی شہادت تمہارے سامنے پیش کرتے ہیںاس صورت میں بھی شہادت تو خدا تعالیٰ کے فعل کی ہی ہو گی مگر براہ راست آسمان کی بناوٹ کو پیش کرنا سمجھا جائے گا۔لیکن اگر ’’مَا‘‘ کو مَنْ کے معنوں میں لیا جائے تو آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم تمہارے سامنے آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیںاور اس صانع عظیم کو کہ جب انسان اس کی صنعت کو دیکھتا ہے تو محو ہو جاتا ہے یعنی تم آسمان کو دیکھو اور جس نے اسے بنایا ہے اس کو بھی یعنی اس کی عظیم الشان صنعت کو دیکھو۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی اس صنعت کو دیکھے تو وہ حیران رہ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی جبروت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے پس چونکہ یہاں خدا تعالیٰ کی صفت پر زور دینا مقصود تھا اور کائنات ِ عالم میںسے آسمان کی بناوٹ۔اس کی بلندی اور اس کے فوائد کی طرف بنی نوع انسان کو متوجہ کرنا تھا اس لئے یہاں ’’مَا‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔اسی طرح وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا میںاگر ’’مَا‘‘ کو مصدریہ قرار دیا جائے تو آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم شہادت کے طور پر زمین کو پیش کرتے ہیںاور اس کے بچھے ہوئے ہونے کو بھی۔لیکن اگر مَا کو مَنْ کے معنوں میں لیا جائے تو آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ تم زمین کو دیکھو اور اس کے اُس بچھانے والے کو دیکھو جس کی عظیم الشان صنعت کا یہ نمونہ ہے۔بہت سے سیارے ایسے ہیں جو رہائش کے قابل نہیںاسی طرح بعض زمینیںایسی ہیں جو انسانی رہائش کے قابل نہیں ہوتیں۔بعض تو ایسی ہوتی ہیںکہ انسان وہاں رہ ہی نہیںسکتا کیونکہ ہوا جس پر انسانی زندگی کا تما م دارومدار ہے وہاں اس قدر ہلکی ہوتی ہے کہ پھیپھڑوں میں جا ہی نہیں سکتی اور بعض زمینیںایسی ہوتی ہیںکہ وہاں ہوا تو موجود ہوتی ہے مگر وہ اپنے اندر ایسی کیمیائی ترکیب نہیںرکھتی کہ زندگی کا باعث بن سکے۔اسی طرح کئی زمینیں ایسی ہیں جہاں انسان جیسی مخلوق ٹِک ہی نہیں سکتی اگر اس قسم کی مخلوق وہاں ہو تو یا وہ زمین پر چل ہی نہیں سکے گی اور اگر چلے گی تو فوراً گر جائے گی اور یا پھر وہاں کی زہریلی ہوا اس کو فوراً ہلاک کردے گی۔غرض زمین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کے قابل رہائش ہونے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ بعض زمینیں ایسی ہیں جو انسانی رہائش کے قابل نہیں ہیں چنانچہ وَالْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا میں اللہ تعالیٰ اسی صنعت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہاری رہائش کے قابل بنایا ہے اور یہ اس کا ایک بہت بڑا احسان ہے جس سے اس نے تمہیں نوازا۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہر زمین رہائش کے قابل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ