تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 353
ہوتا ہے اور دین کا بھی ڈر ہوتا ہے ……… اور چونکہ اس وقت دو کشتیاں تیار ہوجاتی ہیں منافق چاہتا ہے کہ دونوں کشتیوں میں سوار ہوکر سفر کرتا چلا جائے نہ وہ پوری طرح دین کی طرف آتا ہے اور نہ وہ پوری طرح کفر کی طرف جاتا ہے۔یہ بھی جرأت نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں کا مقابلہ کرے کیونکہ ڈرتا ہے کہ وہ جیت نہ جائیں اور یہ بھی جرأت نہیں کرسکتا کہ کفار کا مقابلہ کرے کیونکہ ان کے متعلق بھی اسے خوف ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو وہ جیت جائیں۔پس فرماتا ہے ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب تیری جماعت ترقی کرتے کرتے کفار کے مقابلہ میں ایک ترازو پر آجائے گی جیسے اس وقت قادیان میں حالت ہے۔اس وقت تیری جماعت میں منافقوں کا ایک گروہ پیدا ہوجائے گا جو ادھر تجھ سے تعلق رکھے گا اور ادھر کفار سے تعلق رکھے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میںنفاق کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔قادیان میں وہی شخص آتا تھا جو لوگوں سے ماریں کھانے کے لئے تیار ہوتا تھا مگر اب چونکہ جماعت ترقی کرکے دشمن کے مقابلہ میں ترازو کے تول کی مانند کھڑی ہوگئی ہے اس لئے منافقین کا بھی ایک عنصر پیدا ہوگیا ہے۔چنانچہ ۱۹۳۴ء میں جب احرار نے شورش برپا کی اور گورنمنٹ کے بعض افسروں نے بھی ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تو اس وقت ہماری جماعت میں سے بعض منافق احرار سے جاکر ملتے تھے اور ہمیں ان کی نگرانی کرنی پڑتی تھی اور ابھی تو یہ پیشگوئی صرف قادیان میں پوری ہوئی ہے جب بیرونی مقامات پر بھی جماعت نے ترقی کی اور کفر کے مقابلہ میں اس نے طاقت پکڑنی شروع کردی تو اس وقت وہاں بھی ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے۔پھر اور ترقی ہوگی تو بیرونی ممالک میں اس پیشگوئی کا ظہور شروع ہوجائے گا۔کبھی یورپ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی، کبھی امریکہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی، کبھی چین اور جاپان میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی اور کبھی مصر اور شام اور فلسطین وغیرہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔غرض ۱۸۸۴ء میں جب نہ لوگوں کی مخالفت کا کوئی خیال تھا نہ یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ کسی دن دنیامیں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہوجائے گی۔اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ تیرے ذریعہ جماعت قائم ہوگی وہ جماعت ترقی کرے گی اور جب وہ کفار کے مقابل میں ایک ترازو کے تول پر آجائے گی تو اس وقت بعض منافق پیدا ہوجائیں گے۔حالانکہ یہ باتیں اس وقت کسی کے وہم اور گمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔پھر فرماتا ہے تَــلَــطَّــــفْ بِــالنَّــاسِ وَ تَـــرَحَّـمْ عَـــلَیْـھِمْ اَنْتَ فِیْـھِمْ بِـمَنْـزِلَۃِ مُوْسٰی وَاصْبِـرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۶۰۵) تو لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور تو ان پر رحم کر۔تو ان میں ایسا ہے جیسے موسٰی اپنی قوم میں تھا اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کر۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جو حالات