تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 338

اضطراب کا اظہار کرنا درحقیقت یہی معنے رکھتا ہے کہ آپ اپنے کام کی اہمیت کو سمجھتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کا کام آپ کے سپرد کیا تو فوراً آپ کو فکر شروع ہو گیا کہ اتنا بڑا کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے نہ معلوم میں اس کو الٰہی منشاء کے مطابق سر انجام دے سکوںگا یا نہیں۔آپ کے سپرد جو کام کیا گیا اور جس کا پہلی وحی میں ہی بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کردیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آج جن لوگوں کے ہاتھوں میں قلمیںہیںجو بڑے بڑے علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جن کو اپنے تجربہ اور اپنی علمی نگاہ کی وسعت پر ناز ہے۔تو ان کو وہ علم سکھا جو ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں اور ان علوم اور معارف سے انہیں بہرہ ور فرما جو آج دنیا کی کسی کتاب میں بھی نہیں ملتے۔یہ سیدھی بات ہے کہ جب ایک اُمّی کو یہ کہا جائے گا کہ دنیا نے کتا بیں لکھیںمگر بے کار ثابت ہوئیں اور وہ دنیا کی ہدایت کا موجب نہ بن سکیں۔اب اے شخص ہم تیرے سپرد یہ کام کرتے ہیں کہ جو علوم آج تک بڑی بڑی کتابیں لوگوں کو سکھا نہیں سکیں وہ علوم تو ہمارے حکم سے لوگوں کو سکھا۔تو لازماً اس سے اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجائے گی کہ اتنا بڑا کام میں کس طرح کرسکوں گا۔بےشک ایک پاگل کو جب یہ کہا جائے گا تو وہ خوش ہوجائے گا اور کہے گا کہ یہ کون سا بڑا کام ہے مگر عقلمند کادل خوف سے بھر جائے گا اور وہ کہے گا اتنا بڑا کام میں کس طرح کرسکوں گا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ قَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ آپ کے علم کامل پر ایک زبردست گواہ ہے۔وہ لوگ جو اس واقعہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نقص واقع ہوگیا تھا انہیں غور کرنا چاہیے کہ کیا پاگل بھی کبھی گھبراتا ہے؟ اسے تو اگر کہا جائے کہ کیا تم ساری دنیا فتح کرسکتے ہو تو وہ فوراً کہہ دے گا یہ کون سی مشکل بات ہے۔مگر وہ جسے اپنی ذمہ واری کا احساس ہوتا ہے، جو کام کی اہمیت کو سمجھتا ہے، جو فرائض کی بجاآوری کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتا ہے وہ کام کے سپرد ہونے پر لرز جاتا ہے۔اس کا جسم کانپ اٹھتا ہے اور اس کے دل میں بار بار یہ خیال آنا شروع ہوجاتا ہے کہ ایسا نہ ہو میں اپنی کسی غفلت کی وجہ سے ناکام ہوجائوں اورجو کام میرے سپرد کیا گیا ہے اس کو سرانجام دینے سے قاصر رہوں۔تاریخ اسلام میں اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آٹھ سالہ عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ دیتے ہیں، روم اور ایران کو شکست دے دیتے ہیں، عرب کی سرحدوں پر اسلامی فوجیں بھجوا کر اسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کردیتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو قیامت