تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 337

فرق کر رہی ہیں جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ غار حراء میں آپ کو جو نظارہ دکھایا گیا وہ گہری نیند والا نہ تھا بلکہ کشفی نیند والا تھا اور ابن ہشام والی روایت کے معنے گہری نیند کے نہیں بلکہ کشفی نیند کے ہیں اور آپ کے ان الفاظ کا کہ پھر میں جاگ اٹھا صرف اتنا مفہوم ہے کہ پھر میری کشفی حالت جاتی رہی۔پس ابن ہشام کی روایت اور بخاری و مسنداحمد بن حنبل کی حدیث میںکوئی اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔یوروپین مصنفین کا بدء الوحی پر دوسرا اعتراض دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رئویا پر شک تھا۔اس سوال کی بنیاد اس امر پر رکھی جاتی ہے کہ الف۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔باء۔آپ نے حضرت خدیجہ ؓسے فرمایا قَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے۔ج۔فترۃوحی پرآپ نے اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہا جیسا کہ بخاری اور مسند احمد بن حنبل دونوں میں اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔بدء الوحی پر آنحضرتؐکے گھبرانے کی وجہ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گھبرانا اور خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ کہنا تو اس وجہ سے تھا کہ ہر انسانِ کامل کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔جو شخص چھچھورا ہوتا ہے یا ادنیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے اس کے سپرد جب کوئی کام کیا جاتا ہے تو بغیر اس کے کہ وہ عواقب پر نگاہ دوڑائے اوراپنے کام کی اہمیت کو سمجھے کہہ دیتا ہے کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے میں اسے فوراً کرلوں گا۔لیکن عقلمند انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اس کے دل میں فوراً گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے کہ نہ معلوم میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں۔قابل اور نا قابل میں یہی فرق ہوتا ہے کہ قابل کو فوراً اپنے کام کا فکر پڑ جاتا ہے مگر ناقابل کو کوئی احساس نہیں ہوتا۔وہ سمجھتا ہے کہ کام با لکل آسان ہے۔میں سمجھتا ہوں موجودہ جنگ میں ہی جو کام جنرل الیگزنڈریا جنرل منٹگمری یا لارڈمونٹ بیٹن کے سپرد کیا گیا ہے اگر یہی کام کسی ہندوستانی صوبیدار کے سپرد کیا جاتا اور اس سے پوچھا جاتا کہ کیا تم فوجوں کی کمان کر سکوگے؟ تو بغیر سوچے سمجھے وہ فوراً جواب دے دیتا کہ میں اس کام کو اچھی طرح سر انجام دے سکوں گا۔مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے سپرد جب کام ہوا تو ذمہ داری کا احساس رکھنے کی وجہ سے ان کے دلوںمیں خوف پیدا ہوا کہ نہ معلوم ہم اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کر سکیں گے یا نہیں۔پس کسی کام کے سپرد ہونے پر دل میں گھبراہٹ پیدا ہونا علم کامل کی علامت ہوتی ہے نہ اس بات کی علامت کہ وہ کام کی اہلیت نہیں رکھتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی نزول وحی پر گھبرانا اور آپ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اپنی گھبراہٹ اور