تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 333
قَالَ قُلْتُ مَا اَقْرَاُ۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس جبریل آیا وَ اَنَا نَائِمٌ اور اس وقت میں سورہا تھا ایک ریشمی کپڑا ان کے پاس تھا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا۔انہوں نے کہا پڑھو! میںنے کہا مجھے تو پڑھنا نہیں آتا۔قَالَ فَغَطَّنِیْ بِہٖ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ الْمَوْتُ انہوں نے مجھے خوب بھینچا یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں مرنے لگا ہوں۔ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اِقْرَاْ قُلْتُ مَا اَقْرَاُ۔پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو! میںنے کہا میں تو پڑھنا نہیںجانتا۔فَغَطَّنِیْ بِہٖ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ الْمَوْتُ انہوں نے پھر مجھے ڈھانپ لیا یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں اب مرنے لگا ہوں۔ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ اِقْرَاْ قُلْتُ مَا اَقْرَاُ۔پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو! میں نے کہا میں کیا پڑھوں؟ مَااَقُوْلُ ذَالِکَ اِلَّا افْتِدَاءً مِّنْہُ اَنْ یَّعُوْدَ لِیْ بِـمِثْلِ مَا صَنَعَ بِیْ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یہ فقرہ کہ میں کیا پڑھوں اس لئے کہا تھا تا اس ذریعہ سے میں اس صدمہ سے بچ جائوں جو ان کے بھینچنے سے مجھے پہنچنا تھا۔اس پر انہوں نے کہا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔قَالَ فَقَرَاْتُـھَا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس پر میں نے یہ فقرے دہرائے ثُمَّ انْتَـھٰی فَانْصَـرَفَ عَنِّیْ وَھَبَبْتُ مِنْ نَّوْمِیْ۔پھر انہوں نے بس کردیا اور مجھ سے لوٹ کر چلے گئے اور میں اپنی نیند سے بیدار ہوگیا۔فَکَاَنَّـمَا کُتِبَتْ فِیْ قَلْبِیْ کِتَابًا۔اس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے دل پر یہ تمام الفاظ نقش کردیے گئے ہیں۔بدء الوحی پر مخالفین کا اعتراض کہ یہ خواب کا واقعہ تھا اس حوالہ میںصاف طور پر نیند کا لفظ آتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم اس روایت پر بنیاد رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ درحقیقت یہ ایک خواب تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھی۔اس تاویل سے ان کا منشاء یہ ہے کہ بائبل کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے انسان کو بالمشافہ نظر آتے ہیں اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔اگر ہم یہ ثابت کردیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتہ نظر نہیں آیا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ نے دیکھی تو بائبل کے نبیوں سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہوسکے گی۔گو بخاری اور مسند احمد بن حنبل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو حدیث آتی ہے اس میں صاف طور پر یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں کے سامنے جبریل کو دیکھا۔مگر چونکہ یہ حدیث ان کے منشاء کے خلاف ہے اس لئے وہ بخاری یا مسند احمد بن حنبل کی حدیث کی بجائے ابن ہشام کی اس روایت پر اپنے دعویٰ کی بنیاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی فرشتہ اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آیا صرف ایک خواب تھی جو حراء میں آپ کو آئی۔اگر اس خواب کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی انبیاء بنی اسرائیل