تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 332

بدء الوحی کے واقعات پر دشمنوںکے اعتراضات پس ابتداء وحی ایک نہایت ہی اہمیت رکھنے اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی چیز ہے۔اسی وجہ سے دشمنوں کی بھی اس پر خاص طور پر نظر پڑی ہے اور انہوں نے ان آیات اور ابتداء وحی سے تعلق رکھنے والے واقعات سے قسم قسم کے استدلال کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی وحی کی تنقیص کرنے کی کوشش کی ہے۔کوئی کہتا ہے وحی ایک ڈھکونسلا ہے، کوئی کہتا ہے وحی ایک بیماری کا حملہ تھی۔چنانچہ آپ کا زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ کہنا اس پر شاہد ہے۔کئی کہتے ہیں یہ بیماری اور جھوٹ دونوں کا اجتماع تھا۔پھر واقعہ پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔آپ کے گھبرانے پر بھی اعتراض ہے کہ آپ کو وحی پر شک تھا یا یہ اعتراض ہے کہ اپنی قالبیت پر شک تھا یا یہ کہ آپ نے خداتعالی کا حکم ماننے سے پہلو تہی کی۔یہ بھی اعتراض ہے کہ اس وحی کی نوعیت کیا تھی۔آیایہ مادی نظارہ یا خواب تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آئی۔(The Life of Mahomet, by W۔Muir P۔38,44,54,56۔A Comprehensive commentary on the Quran by Wherry P۔191,259) غرض مختلف دشمنوں نے اپنے اپنے رنگ میں استدلال کیا ہے۔غیر مسلم مصنفین کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات اُٹھائیں جس سے قرآن کریم پر حملہ ہوسکے۔چنانچہ بعض نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ وحی ایک نظارہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا اس لئے یہ غیر معمولی او رمافوق الطبیعات نظارہ درحقیقت علامت تھی اس بات کی کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں خشکی پیدا ہوکر جنون رونما ہوگیا تھا۔لیکن بعض دوسرے مخالفین کا دماغ اس طرف گیا ہے کہ ممکن ہے کچھ لوگ جنون کی تھیوری کو تسلیم نہ کریں اور وہ اس بات کو مان لیںکہ سچ مچ اس قسم کا واقعہ ہوسکتا ہے اور اگر انہوں نے مان لیا تو فرشتے دیکھنے یا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسرائیل کے نبیوں کے مشابہ قرار دے دیں گے اور یہ بڑی تکلیف دہ بات ہوگی۔پس انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ کوئی نظارہ نہیں تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ کو آئی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات ہماری روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ ابن ہشام لکھتے ہیں حَتّٰی اِذَا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ اَکْرَمَہُ اللہُ تَعَالٰی فِیْـھَا بِرِسَالَتِہٖ وَ رَحِـمَ الْعِبَادَ بِـھَا جَاءَہٗ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِاَمْرِاللہِ تَعَالٰی یعنی جب وہ رات آگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت سے مفتخر فرمایا اور اپنے بندوں پر رحم کیاتو جبریل اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آگے لکھا ہے قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَـجَاءَنِیْ جِبْرِیْلُ وَ اَنَا نَائِمٌ بِنَمَطٍ مِّنْ دِیْبَاجٍ فِیْہِ کِتَابٌ فَقَالَ اِقْرَاْ۔