تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 325
نے کہا میں توپڑھنا نہیں جانتا۔اس نے تیسری دفعہ پھر مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری مقابلہ کی طاقت ختم ہوگئی۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور (اس سورۃ کی یہ آیات پڑھنے کو) کہا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔اس کے بعد راوی کے اپنے الفاظ میں حدیث آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ کے فوراً بعد اپنے گھر واپس آئے اور آپ کی حالت یہ تھی کہ اس وقت آپ کے کندھے خوف سے کانپ رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر پہنچے تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا زَمِّلُوْنِیْ۔زَمِّلُوْنِیْ مجھے کپڑا اوڑھادو۔مجھے کپڑا اوڑھادو۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں سے ڈھانک دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف دور ہوگیا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ! مجھے کیا ہوگیا ہے؟ پھر آپ نے ساری بات سنائی اور فرمایا کہ مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پید اہوگیا ہے۔حضرت خدیجہؓ نے کہا ایسا خیال مت کیجئے بلکہ آپ خوش ہوجائیے۔مجھے اللہ ہی کی قسم وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا کیونکہ آپ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں، ہر سچی بات کی آپ تصدیق کرتے ہیں، خدا تعالیٰ کی کسی بات کا انکار نہیں کرتے،جو لوگ اپنا بوجھ نہیں اٹھاسکتے ان کے بوجھ آپ خود اٹھاتے ہیں، ہر آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرتے ہیںاور جو لوگ ایسی مصائب میں مبتلاہوںکہ اس میں ان کی شرارت کا دخل نہ ہو بلکہ حوادثِ زمانہ کی وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی ہو آپ ان کا بوجھ بٹاتے ہیں۔پھر حضرت خدیجہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لیا اور آپ کوورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو حضرت خدیجہؓ کے ابن عم یعنی چچا زاد بھائی تھے۔یہ ورقہ بن نوفل ان لوگوں میں سے تھے جو زمانۂ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے۔وہ تورات کو عربی زبان میں لکھوایا کرتے تھے (یا اندھا ہونے سے پہلے لکھا کرتے تھے) اور جتنی خدا تعالیٰ توفیق دیتا تھا عبرانی زبان سے انجیل بھی لکھوایا کرتے تھے (یعنی اس کا عربی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کرتے تھے) وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْـرًا قَدْ عَـمِی اور وہ ایک بوڑھے آدمی تھے جو بڑھاپے میں آکر نابیناہوگئے تھے۔حضرت خدیجہؓ نے ان سے مختصراً سب حال کہا اور کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھائی کے بیٹے کے منہ سے سب بات سن لو۔ورقہ نے کہا اے میرے بھائی کے بیٹے تو نے کیا دیکھا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھاتھا وہ تفصیلاً بتایا۔ورقہ نے تمام باتیں سن کر کہا یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔کاش! میںاس وقت جوان ہوتا۔کاش! میں اس وقت زندہ ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَوَ مُـخْرِجِیَّ ھُمْ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا ہاں