تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 321

ثابت کر دوں گا۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ دین کے ایک معنے تدبیر کے بھی ہوتے ہیں۔پس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ کیا اتنے بڑے نشانوں کے بعد جو ہم نے تیری صداقت میں ظاہر کئے ہیں کوئی شخص یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ تو ہار جائے گا اور دشمن جیت جائے گا۔آدمؑ آیا تو دشمن نے اس کے خلاف کتنی تدابیر کی تھیں نوحؑ آیا تو اس کو ناکام بنانے کے لئے دشمن نے کیسی کیسی تدابیر اختیار کی تھیں۔موسٰی آیا تو اس کی شکست کے لئے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کیسی کیسی کوششوں سے کام لیا تھا۔پھر اگر پہلے انبیاء کے دشمن نا کا م ہوگئے اور ان کی تدابیر کسی کام نہ آئیںتو یہ لوگ کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقا بلہ میں اپنی تدابیر سے غالب آجائیں گے۔پانچویں معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ تقویٰ قائم رکھتے ہوئے کون شخص تیری مخالفت کرے گا۔کیونکہ دین کے ایک معنے ورع یعنی تقویٰ اور روحانیت کے بھی ہیں اور مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کی سزا کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہوئے اور تقویٰ اور روحانیت کی راہوں پر چلتے ہوئے کوئی شخص تیری مخالفت نہیں کر سکتا۔صرف وہی گندے اور ناپاک طبع دشمن تیری مخالفت میں کھڑے ہو سکتے ہیں جن کے اندر تقویٰ کا ایک شائبہ بھی نہ ہو اور جو نیکی اور روحانیت کے مقام سے ایسے ہی دور ہوں جیسے مشرق سے مغرب دور ہوتا ہے۔چھٹے معنے یہ ہیں کہ اب اس کے بعد کون اِکراہ کے ساتھ تیری تکذیب کرے گا یعنی سابق دشمنوں کا انجام دیکھ کر پھر کون بد نیت ہوگا جو جبر کے ہتھیار سے تیرا مقابلہ کرنا چاہے اور یہ خیال کرے کہ میں مار پیٹ کر سیدھا کر لوں گا پہلے نبیوں کو بھی مارنے پیٹنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں مگر کیا ان کے دشمن کامیاب ہو گئے دشمن کا اکراہ اس کے کسی کام نہ آیا اور اس کا جبر خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کو روک نہ سکا۔ان مثالوں کے بعد اب ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال کس طرح آسکتاہے کہ ہم نے اگر جبرو تشدد سے کام لیا تو ہم کامیاب ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ کا دین بہرحال پھیل کر رہے گا۔اسلام دنیا پر غالب آئے گا اور کسی قسم کی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکے گی۔اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَؒ۰۰۹ کیا (اب بھی کوئی خیال کر سکتا ہے کہ )اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟ تفسیر۔فرماتا ہے کیا ان سارے دلائل اور نصیحتوں کو سن کر بھی ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ