تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 301
یہ تھیوری جس کا فرائیڈ کو موجد قرار دیا جاتا ہے اس رنگ میں بیان کی جاتی ہے کہ بچے کو پہلا عشق اپنی ماں سے ہوتا ہے لیکن بڑے ہو کر گردوپیش کے حالات کی وجہ سے یا مذہبی لوگوں کی باتیں سن سن کر اس کا یہ خیال دب جاتا ہے اور اس کی بجائے بیوی کی محبت اس کے سامنے آجاتی ہے لیکن بعض لوگوں کے اندر یہ جذبہ اتنی طاقت پکڑ جاتا ہے کہ بعد میں کوئی اور محبت ان کے جذبۂ محبت پر غالب نہیں آسکتی۔ادھر وہ مذہبی لوگوں سے باتیں سنتے ہیں تو انہیں یہ کہتا ہوا پاتے ہیں کہ ماں بیوی نہیں بن سکتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے مذہب کہتا ہے کہ ماں بیوی نہیں بن سکتی اور ادھر وہ محبت جو دودھ چوستے وقت بچہ کے دل میں اپنی ماں کے متعلق پیدا ہو جاتی ہے اسے ماں کے ساتھ محبت کرنے پر مجبور کر رہی ہوتی ہے۔ان متضاد خیالات کا اس کی طبیعت مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ کئی قسم کی دماغی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔بے شک بعض دفعہ وہ خود بھی نہیں جانتا کہ اس کی بیماری کی کیا وجہ ہے۔لیکن سائیکو انیلسس (تجزیۂ شہوات) کے ذریعہ اگر اس کا علاج کیا جائے تو اس کی مخفی مرض کا پتہ چل جاتا ہے اور اس کی بیماری کو آسانی کے ساتھ دور کیا جا سکتا ہے۔اس مسئلہ پر زیادہ تفصیل کے ساتھ غور کرتے ہوئے انہوں نے سو ۱۰۰ کے قریب ایسی باتیں جمع کی ہیں جو ان کے نزدیک بچے پر اثر ڈال کر اسے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہیں۔جب کوئی مریض اس طریق علاج کے ماہر کے پاس آتا ہے تو وہ اسے لٹا کر اور اس کے جسم کو ڈھیلا کر کے اس کی نبض پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک کر کے مختلف باتیںاس کے سامنے بیان کرتا چلا جاتا ہے کبھی ماں کی محبت کا ذکر کرتا ہے کبھی باپ کی محبت کا ذکر کرتا ہے۔کبھی ماں کی محبت کا ذکر کرتا ہے کبھی کسی امر کا اور کبھی کسی امر کا ذکر کرتا ہے اور نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کس بات پر اس کی نبض میںغیر معمولی حرکت پیدا ہوتی ہے۔یہ صاف بات ہے کہ جب کسی ایسی بات کا ذکر کیا جاتا ہے جس سے انسان کو خاص طور پر دلچسپی ہوتی ہے تو اس کے دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے اور نبض بھی زیادہ جلدی جلدی حرکت کرنے لگتی ہے اس طرح ڈاکٹر معلوم کر لیتا ہے کہ مریض کی بیماری کا اصل باعث کیا ہے اور وہ کیوں بیمار چلا آرہا ہے۔اس کے بعد اگر وہ خیال جائزہو تو وہ اسے مشورہ دیتے ہیںکہ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور اگر ناجائز ہو تو اس خواہش کی قباحت پر اس کے سامنے متواتر لیکچر دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دل اور دماغ سے وہ خواہش بالکل نکل جاتی ہے اور چونکہ بیماری کا اصل سبب دور ہو جاتا ہے اس کی بیماری جاتی رہتی ہے اور وہ تند رست ہو جاتا ہے۔اس طریق علاج کے ماتحت کئی قسم کے تجارب کئے گئے ہیں اور قطعی طورپر ایسے کئی کیس پیش کئے جاتے ہیں جو اور کسی ذریعہ سے اچھے نہ ہوئے لیکن سائیکوانیلسس(تجزیۂ شہوات) کے ماتحت جب ان کا علاج کیا گیا اور ان کی مخفی خواہشات کا علم حاصل کر کے ان کو