تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 300

کہ اس میں نیکی کا کوئی ملکہ ودیعت نہیں کیا گیا۔اس نقطئہ نگاہ کے ماتحت جب ہم اس تھیوری پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فرائیڈ اور دوسرے یورپین فلسفی خود تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی اصلاح ہو سکتی ہے۔چنانچہ سائیکو انیلسس( تجزیہ شہوات) ان کا ایک خاص مسئلہ ہے جس کے ماتحت یہ ان لوگوں کا علاج کرنے کے بھی دعوے دار ہیں جو مختلف قسم کے گندے خیالات میں مبتلا ہوتے ہیں۔درحقیقت فرائیڈ کا نظریہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کی خرابی اس وقت سے شروع نہیں ہوتی جب وہ کسی فعل کا ارتکاب کرتا ہے بلکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اسی وقت سے اس کی فطرت کے اندر بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور اس کی مختلف حرکات اور سکنات اس کے دل میں غلط یا صحیح جذبات پیدا کرتی چلی جاتی ہیں۔مثلاً شہوت کا مادہ جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کے متعلق فرائیڈ کا نظریہ یہ ہے کہ یہ اس وقت سے پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جب بچہ ماں کے پستانوں سے دودھ چوستا ہے۔وہ کہتا ہے ماں کا دودھ چوسنے اور جسم کی باہمی رگڑ سے اسے خاص قسم کا حظ محسوس ہوتا ہے اور شہوانی مادہ اس میں پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔دوسرے پیشاب پاخانہ کرنے کے بعد جب اعضاء کی صفائی کی جاتی ہے تو ہاتھوں کی رگڑ سے اس کے قلب میں شہوانی خیالات کا احساس بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔پس یہ صحیح نہیں کہ پندرھویں یا سولھویں سال میں بچہ کے اندر شہوانی مادہ پیدا ہوتا ہے بلکہ بقول اس کے بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی یہ احساس مختلف حرکات و سکنات کے نتیجہ میں اس کے قلب میں پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو جوانی کے قریب زیادہ مکمل صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔اس نتیجہ میں بھی ہم فرائیڈ کی تائید کرتے ہیں کیونکہ اسلام بھی یہی نظریہ پیش کرتا ہے کہ بدی اور نیکی کا احساس بچپن میں ہی پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت اس کے کان میں اذان دو کیونکہ اس کی تعلیم اور تربیت کا زمانہ پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔پس اگر فرائیڈ کی اتنی ہی تھیوری ہو تو ہم کہیں گے میاں فرائیڈ اس تھیوری کے تم موجد نہیں بلکہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجد ہیں۔لیکن ان نتائج کو صحیح تسلیم کرنے کے باوجود ہمارا سوال اس تھیوری کے ما ننے والوں سے یہ ہے کہ خواہ تمام خرابیاں بچپن سے ہی انسانی قلب میں پیدا ہو جاتی ہوں سوال یہ ہے کہ جب کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یا فطرت کا وہ بگاڑ جو ماحول کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے کسی اور طریق سے دور ہو سکتا ہے یا نہیں۔اگر دور ہو سکتا ہے تو یہ خیال بالکل باطل ہوگیا کہ فطرت نیکی لے کر پیدا نہیں ہوئی۔با لخصوص سائیکو انیلسس ( تجزیۂ شہوات) کے ذریعہ اس تھیوری کے ماننے والوں نے جو طریق علاج تجویز کیا ہے وہ خود اپنی ذات میں اس عقیدہ کو باطل ثابت کرنے کے لئے بہت کافی ہے۔