تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 287

ہیں تو ہمیں اس میں بعض عظیم الشان خبریں معلوم ہوتی ہیں۔اوّل حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں کہ یہود کو یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان نہ دکھایا جائے گا۔دوم وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔ان الفاظ میں خاص طور پر یونس نبی کی مماثلت پر زور دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔گویا تین دن کی مشابہت پر زور نہیں بلکہ اصل زور یونس نبی کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے اور ابن آدم کے زمین میں رہنے پر ہے۔یعنی جس رنگ میں یونس نبی تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا اسی رنگ میں ابن آدم بھی تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔جیسا اور ویسا کے الفاظ جواس پیش گوئی میں استعمال کئے گئے ہیں بالصراحت بتلاتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ اپنی صداقت کی ایک قطعی اور حتمی دلیل یہ بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں گیا اور تین رات دن اس میں رہا اسی طرح ابن آدم کے ساتھ بھی ایک واقعہ پیش آئے گا اور اسے بھی اسی طرح تین رات دن زمین کے پیٹ میں رہنا پڑے گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ یونس نبی کا کیا واقعہ ہے؟بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یونہ نبی کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ نینوہ والوں کے پاس جائیں اور انہیں خدا تعالیٰ کے عذاب کی خبر دیں۔( بائیبل میں آپ کا نام یونہ ہے لیکن انجیل میں آپ کا نام یونس آتا ہے۔)وہ لوگوں کی مخالفت سے ڈر کر بھاگے اور کسی اور علاقہ میں جانے کے لئے جہاز پر سوار ہو گئے۔جہاز پر طوفان آیا۔لوگوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے غضب سے یہ عذاب نازل ہوا ہے۔اس پر انہوں نے قرعہ ڈالا کہ کس کے سبب سے یہ عذاب آیا ہے اور نام یونہ کا نکلا۔انہوں نے یونہ سے پوچھا کہ قرعہ میں تمہارا نام نکلا ہے بتائو کیا بات ہے؟انہوں نے سارا حال سنایا کہ مجھے اس اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا مگر میں نے سمجھا کہ اگر لوگوں کو میں نے عذاب کی خبر دی تو وہ میری مخالفت کریں گے اس لئے میں وہاں سے بھاگا اور جہاز میں آکر سوار ہو گیا۔انہوں نے کہا اب آپ ہی بتائیں کہ اس مصیبت کا ہم کیا علاج کریں۔یونہ نے کہا کہ تم مجھے سمندر میں پھینک دو۔یہ عذاب ٹل جائے گا۔پہلے تو وہ لوگ اس پر آمادہ نہ ہوئے اور انہوں نے پورا زور لگایا کہ کس طرح طوفان سے جہاز کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جائیں مگر جب وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئے اور طوفان بھی کسی طرح تھمنے میں نہ آیا تو انہوں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہ الٰہی اس شخص کا سمندر میں پھینکنا ہمارے لئے کسی عذاب کا موجب نہ ہو۔یونہ کو اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا۔اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد بائیبل میں لکھا ہے ’’ پر خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یونہ کو