تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 286
ابن آدم گنہگاروں کے ہاتھ حوالے کیا جاتا ہے۔‘‘(متی باب۲۶آیت۳۶تا۴۵) اگر واقعہ میںحضرت مسیحؑ اس لئے آئے تھے کہ وہ لوگوں کے گناہ اٹھائیں اور ان کی خاطر اپنی جان قربان کردیںتو کیا یہ ہو سکتا تھا کہ وہ صلیب کے وقت گڑگڑا گڑگڑا کر یہ دعا مانگتے کہ ’’اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذرجائے‘‘۔(متی باب ۲۶آیت۳۹) پھر تو چاہیے تھا کہ وہ روزانہ یہ دعا مانگتے کہ اے خدا یہ پیالہ مجھے جلد پلا تاکہ بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ہو۔مگر بجائے اس کے کہ وہ یہ دعا کرتے کہ الٰہی موت کا پیالہ مجھے جلد پلا تاکہ میں لوگوں کے گناہ اٹھا کران کی نجات کا باعث بنوں وہ ساری رات گڑگڑا گڑگڑا کر یہ دعا کرتے رہے کہ الٰہی مجھے صلیب سے بچا اور نہ صرف آپ یہ دعا کرتے رہے بلکہ حواریوں کو بھی بار بار دعا کرنے کی تاکید کرتے رہے اور بار بار آکر دیکھتے رہے کہ وہ سو رہے ہیں یا اٹھ کر دعائیں کر رہے ہیں اور جب انہوں نے دیکھا کہ حواری سستی سے کام لے رہے ہیں اور دعا کی طرف ان کی توجہ نہیں تو انہوں نے ان کو ڈانٹا اور کہاکیا تم سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک گھنٹہ جاگ سکواور خدا سے دعائیں کرو۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت مسیحؑ کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی کفارہ کا وہ مسئلہ نہ تھا جو آج کل عیسائیوں نے ایجاد کیا ہوا ہے اور نہ کفارہ کے لئے وہ دنیا میں تشریف لائے تھے ورنہ صلیب کی رات نہ آپ خود یہ دعا کرتے اور نہ اپنے حواریوں سے کہتے کہ دعا کرو کہ یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔پھر ہم کہتے ہیں کہ کفارہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ حضرت مسیحؑ نے صلیب پر جان دی۔مگر جب اناجیل پر غور کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ حضرت مسیحؑ صلیب پر لٹک کر فوت ہوئے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے ’’ تب بعض فقیہوں اور فریسیوں نے جواب میں کہا کہ اے استاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی حضرت مسیحؑ نے اپنی صداقت کے متعلق جب مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کئے تھے تو ان کو سننے کے بعد فقیہوں اور فریسیوں نے کہا یہ تو زبانی باتیں ہوئیں آپ ہمیں کوئی ایسا نشان دکھائیں جس سے آپ کی صداقت کے ہم بھی قائل ہو جائیں۔اس پر ’’ اس نے انہیں جواب دیا اور کہا کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا۔کیونکہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا‘‘ ( متی باب ۱۲ آیت ۳۸ تا ۴۱) ان الفاظ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے واقعہ صلیب کی خبر دی ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس میں ہمارا اور عیسائیوں کا اتفاق ہے۔عیسائی بھی یہی کہتے ہیں کہ مسیحؑ کی یہ پیش گوئی واقعہ صلیب پر چسپاں ہوتی ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ اس پیشگوئی کا اطلاق صلیب کے واقعات پر ہوتا ہے۔فریقین کے اس اتحاد کے بعد جب ہم نفس پیشگوئی پر غور کرتے