تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 273
اسے موت کا تلخ گھونٹ پینا پڑے گا۔مگر حنوک کو نہ موت کا تلخ گھونٹ پینا پڑا اور نہ ماتھے کے پسینہ سے اپنے لئے روزی کا سامان مہیا کرنا پڑاوہ جیتے جی بغیر مرنے کے آسمان میں غائب ہو گیا اور پھر وہ ہمیشہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔گویا اسے رزق بلا محنت ملتا رہا۔اس سے ظاہر ہے کہ عیسائی مذہب کے رو سے حنوک ورثہ کے گناہ اور اس کے اثرات سے قطعی طور پر محفوظ تھا۔اگر ورثہ کا گناہ حنوک میں بھی آتا تو ضروری تھا کہ وہ مر کر زمین میں دفن ہوتا اور ضروری تھا کہ وہ ماتھے کے پسینہ سے اپنے لئے روٹی مہیا کرتا۔مگر اس کا نہ مرنا اور نہ ماتھے کے پسینہ سے روٹی کھانا بتا رہا ہے کہ حنوک عیسائی مذہب کے رو سے بالکل پاک تھا۔اس کے بعد نوحؑآئے ان کی نسبت لکھا ہے کہ لمک نے اپنے بیٹے کا نام نوحؑرکھااور کہا کہ ’’یہ ہمارے ہاتھوں کی محنت اور مشقت سے جو زمین کے سبب سے ہیں جس پر خدا نے لعنت کی ہے ہمیں آرام دے گا۔‘‘ ( پیدائش باب ۵ آیت ۲۹) یعنی آدم کے گناہ کی وجہ سے جو زمین پر لعنت ڈالی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ انسان ہمیشہ محنت اور مشقت سے اپنے لئے روزی کمائے گاوہ لعنت نوحؑکی وجہ سے دور ہو جائے گی۔یہ امر بتایا جا چکا ہے کہ آدمؑ کے گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو سزائیں ملی تھیں۔ایک یہ کہ انسان محنت و مشقت سے روزی کمائے گااور دوسری یہ کہ وہ ایک دن مر کر زمین میں دفن ہو گا۔لمک نے اپنے بیٹے کا نام نوحؑرکھااور اس لئے رکھا کہ ’’یہ ہمارے ہاتھوں کی محنت اورمشقت سے جو زمین کے سبب سے ہیں جس پر خدا نے لعنت کی ہے ہمیں آرام دے گا‘‘۔گویا انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوحؑکی وجہ سے وہ محنت اور مشقت سے آزاد ہو جائیں گے اور انہیں آرام میسر آجائے گا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ نوحؑنے اس لعنت کو آکردور کر دیا۔اگر کہا جائے کہ انہوں نے یونہی بلاوجہ ایک امید ظاہر کر دی تھی تو سوال یہ ہے کہ بائیبل نے اس کو نقل کیوں کیا ہے؟بائیبل کا اسے نقل کرنا بتا رہا ہے کہ انہوں نے خدا کے حکم کے ماتحت یہ امیدظاہر کی تھی اور یہ توقع وہ تھی جسے نوحؑنے اپنی زندگی میں پورا کرنا تھا اور اس طرح انہوں نے اس لعنت کو دور کر دینا تھا جو آدم کے گناہ کی وجہ سے زمین پر مسلط تھی۔پھر نوحؑ کے بارہ میں لکھا ہے۔’’نوح اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوحؑخدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا ‘‘ (پیدائش باب ۶آیت ۹) جو شخص صادق اور کامل تھا وہ گنہگار کس طرح ہو گیا؟پھر نوح وہ شخص تھا جو خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھاجس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کام کرتا تھا۔اب بتائو جو شخص صادق بھی ہو اور کامل بھی اور پھر خدا کی مرضی کے خلاف کبھی کوئی فعل بھی نہ کرتا ہواسے گنہگار کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ پھر نوحؑ سے خدا تعالیٰ نے کہا۔’’ میں تجھ سے اپنا عہد قائم کروں گا‘‘ (پیدائش باب ۶ آیت ۱۸) جس شخص کو خدا اپنے عہد کے لئے منتخب فرمالے