تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 272

کے جیتے جی خدا کے حضور چلے جانے کی خبر‘‘ یہ حوالہ ظاہر کر رہا ہے کہ حنوک اللہ تعالیٰ کا اس قدر پیارا تھا کہ خدا نے اسے اور لوگوں کی طرح موت جسمانی نہیں دی بلکہ جیتے جی اسے آسمان پر اٹھا لے گیا۔حالانکہ عیسائی عقیدہ کی رو سے آدم کو گناہ کی جو سزادی گئی تھی اس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ وہ دنیا میں ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا۔بلکہ ایک دن موت کا شکار ہو جائے گا۔چنانچہ پیدائش باب ۳ آیت ۱۹ میں اس سزا کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔’’تو خاک ہے اور پھر خاک میں جائے گا‘‘ گویا عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ آدم کے گناہ کے نتیجہ میں انسان کو موت کی سزا دی گئی ہے اسی طرح اسے زمین پر رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔اگر آدم گناہ نہ کرتا تو انسان ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا اور زمین پر رہنے پر مجبور نہ ہوتا۔مگر اوپر کے حوالہ میں بتایا گیا ہے کہ حنوک کو خدا نے موت نہیں دی بلکہ اسے زندہ ہونے کی حالت میں آسمان پر اٹھا لیا۔اگر اس حوالہ میں صرف حنوک کی دینداری کا ذکر ہوتا۔یہ بات بیان نہ کی جاتی کہ خدا نے اسے موت سے بچایااور جیتے جی آسمان پر اٹھا لیا تب بھی یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ مسیح کی آمد یا اس کے کفارہ پر ایمان لانے کے بغیر بھی لوگ نیک ہو سکتے ہیں۔مگر اس حوالہ سے یہ زائد بات بھی نکلتی ہے کہ حنوک موت سے بچ گیا اور آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا۔حالانکہ موت اور زمین پر رہنا ایک سزا تھا آدم کے گناہ کی۔پس جسے موت نہیں آئی اور آسمان پر چلا گیا اس کے متعلق بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس نے ورثہ کے گناہ سے کوئی حصہ نہیں پایا۔اگر پایا ہوتا تو عیسائی عقیدہ کی رو سے وہ ضرور مرتا۔مگر چونکہ وہ زندہ رہااور جیتے جی آسمان پر اٹھا لیا گیااس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اس نے ورثہ کے گناہ سے حصہ نہیں لیا۔پھر ساتھ ہی لکھا ہے۔’’حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا‘‘ (پیدائش باب ۵ آیت ۲۴)خدا کے ساتھ ساتھ چلنے کے یہ معنی ہیں کہ اس کی زندگی صرف خدا کے کام میں مصروف تھی کسی اور طرف اس کی توجہ نہیں تھی۔اور جس شخص کی زندگی صرف خدا کے کام میں صرف ہو رہی ہواور دن اور رات اسے یہی فکر ہو کہ میں ان فرائض کو بجا لائوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر عائد کئے گئے ہیں وہ اس رنگ میں اپنی معاش کا سامان نہیں کر سکتا جس رنگ میں دوسرے لوگ جدوجہد کرتے اور اپنی روزی کا فکر کرتے ہیں۔بالفاظ دیگرخدا کے ساتھ ساتھ چلنے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسے رزق بلا محنت ملتا تھا۔گویا وہ دوسری سزا بھی اسے نہیں ملی جو آدم کے گناہ کی وجہ سے مقرر ہوئی تھی اور جس کا ذکر بائیبل میں ان الفاظ میں پایا جاتا ہے کہ ’’تو اپنے مونہہ کے پسینہ کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں پھر نہ جاوے کہ تو اس سے نکالا گیا ہے کہ تو خاک ہے اور پھر خاک میں جائے گا‘‘ ( پیدائش باب ۳ آیت ۱۹) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آدم کو دو سزائیں دی گئی تھیں ایک یہ کہ وہ ہمیشہ اپنے ماتھے کے پسینہ سے روٹی کھائے گا اور دوسرے یہ کہ وہ اس دنیا میں ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا بلکہ ایک دن آئے گا جب