تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 237

میں فرماتا ہے فَقُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى۔اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى۔وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَ لَا تَضْحٰى۔فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا يَبْلٰى۔فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ٞ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۔ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى۔( طٰہٰ :۱۱۸تا ۱۲۳) یعنی ہم نے آدم کو جنت میں رکھا تو شیطان ان کا مدمقابل بن کر کھڑا ہوگیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا۔اے آدم یہ تیرا دشمن ہے اور تیری بیوی یا تیرے ساتھیوں کا بھی دشمن ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکال دے اور تم تکلیف میں پڑ جائو۔تیرے لئے خدا کا فیصلہ یہی ہے کہ تو اس جنت میں نہ بھوکا رہے نہ ننگا، نہ پیاسا رہے اور نہ گرمی کی تکلیف تجھے ستائے۔جب خدا نے یہ کہا تو شیطان کو اور غصہ چڑھا کہ اچھا میرے مقابلہ میں اب اس کے غلبہ اور کامیابی کی خبریں دی جارہی ہیں۔چنانچہ شیطان نے اپنا بھیس بدلا اور اس نے آدم کے پاس آکر کہا۔کیا میں آپ کو ایک ایسے درخت کا پتہ دوں جس کا پھل کھانے سے آپ کو دائمی حیات حاصل ہوسکتی ہے اور ایسی حکومت کا آپ کو پتہ دوں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔جب اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں اس نے کیں تو دھوکہ کھاجانے کی وجہ سے آدم اور اس کی جماعت نے یا آدم اور اس کی بیوی نے اس درخت کا پھل کھالیا اور چونکہ آدم کا یہ فعل خدائی منشاء کے خلاف تھا اس لئے یک دم اس فعل کے برے نتائج ظاہر ہونے شروع ہوگئے اور آدم کی آنکھیں کھل گئیں کہ اس نے خدائی منشاء کی خلاف ورزی کرکے سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔اس نے سمجھا تھا کہ یہ کامیابی حاصل کرنے کا طریق ہے مگر ہوا یہ کہ دشمن کی بات مان کر اس کی مشکلات اور بھی بڑھ گئیں اور وہ فتوحات جو اسے پہلے حاصل ہورہی تھیں ان میں یک دم روک پیدا ہوگئی۔شیطان نے آدم کو ورغلانے کا یہی ڈھنگ نکالا تھاکہ آپس کے تعلقات سے بہت فائدہ ہوگا۔رشتہ داری کے تعلقات بڑھ جائیں گے۔دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔محبت اور پیار کے تعلقات بڑھ جائیں گے اور اس طرح بہت جلد ترقی حاصل ہوجائے گی پھر اس نے کہا آخر خدا کا بھی تو یہی منشاء ہے کہ تمہیں ترقی حاصل ہو اگر ایک دوسرے سے مل کر اور آپس کی مغائرت کو دور کرکے یہ ترقی حاصل ہوجائے تو خدا کو کب ناپسند ہوگی۔اس کو تو بہرحال یہ بات اچھی لگے گی۔آدم اس کے دھوکہ میں آگئے اور انہوں نے دشمن سے صلح کرلی۔صلح کرنے کی دیر تھی کہ یک دم ان کی فتوحات رک گئیں کامیابیاں جاتی رہیں اور اس باہمی میل جول کے بدنتائج ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا کہ درخت کا پھل کھانے سے ان کا ننگ ظاہر ہونا شروع