تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 233

سابق مفسرین کے بیان کر دہ معنوں سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ علماء کو شروع سے ہی یہ خیال تھا کہ تین و زیتون مثالی رنگ میں استعمال ہوئے ہیں اور اس کی طرف ان کی طبائع کا شدت سے رحجان پایا جاتا ہے۔بے شک بعض نے تین اور زیتون سے ظاہری تین اورظاہری زیتون ہی مراد لیا ہے مگر اکثر نے ان الفاظ کو استعارہ قرار دے کر نئے معانی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ کسی نے اس سے بیت لمقدس مراد لیا ہے، کسی نے بلاد فلسطین،کسی نے مسجد اقصیٰ اور کسی نے مسجد نوح۔گو یہ طریق جیسا کہ اوپر بیان ہو چکاہے زبردستی کا ہے اور تاویل بعیدہ کا ایک وسیع دروازہ کھول دیتا ہے مگر جہاں تک ان لوگوں کے معنوں کا تعلق ہے جو اس جگہ حذف مضاف کہتے ہیں ان پر غیر معقولیت کا الزام نہیں لگایا جا سکتااس میں کوئی بعید بات نہیں کیونکہ یہ عربی کا عام قاعدہ ہے کہ کبھی حذف مضاف کرکے صرف مضاف الیہ کو بیان کر دیا جاتا تو اسی رنگ میں اگر یہاں بھی تین اور زیتون کا استعمال ہو گیا ہو تو اس میں حرج کی کون سی بات ہے۔قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا وَسْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(یوسف:۸۳) تو ہمارے متعلق گائوں سے پوچھ لے یا تو ہمارے متعلق گدھوں سے پوچھ لے حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ نہ گائوں بولا کرتا ہے اور نہ گدھے کسی سے گفتگو کیا کرتے ہیں۔دونوں باتیں ناممکن ہیں اور دونوں کو عقلی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن کریم نے قَرْیَہ اور عِیْر سے ہی سوال کرنے کو کہا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گو یہاں قَرْیَہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد اَہْلُ الْقَرْیَۃ سے ہے یعنی بستی والے اور گو صرف عِیْر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد یہ ہے کہ گدھوں کے مالکوں سے پوچھ لو۔اسی طرح قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کثرت سے اس محاورہ کو استعمال فرماتا ہے۔ہاں ایسے مواقع پر قرائن قویہ کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔اگر قرائن قویہ کے بغیرایسے معنے کئے جائیں تو بے شک معقول و غیر معقول کے درمیان کی دیوار ٹوٹ جاتی ہے۔چنانچہ وَسْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا میں یہ ایک نہایت کھلا قرینہ ہے کہ بستی کلام نہیں کیا کرتی یا گدھے بولا نہیں کرتے اور جب یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں تو ان سے سوال کرنے کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے کہ بستی سے تعلق رکھنے والے جو لوگ ہیں ان سے دریافت کیا جائے یا گدھوں کے جو مالک ہیں ان سے اصل حقیقت معلوم کی جائے۔اسی طرح اگر بعض لوگوں نےوَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ کے یہ معنے لے لئے کہ اس سے مراد وہ علاقے ہیں جہاں تین اور زیتون دونوں کثرت سے ہوتی ہیں(فتح البیان زیر آیت وَالتِّیْنِ)۔تو اس میںعجیب بات کون سی ہو گئی۔قرآن کریم اپنے کلام میں لازماً عربی محاورات اور عربی طریق گفتگو کو مد نظر رکھے گا۔جب عربی زبان میں