تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 214
آتا ہے جب خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنی محبت کے لئے منتخب فرماتا ہے تو اپنے فرشتوں سے کہتا ہے میں نے فلاں شخص کو چن لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو اور لوگوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کرو۔چنانچہ آہستہ آہستہ تمام دنیا میں اس کی قبولیت پید اہوجاتی ہے۔یہ معنے بھی اس آیت کے ہیں فرماتا ہے کہ گو یہ لوگ تیری مخالفت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تیری بڑائی اور عظمت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جب وفات ہوئی تو کئی غیراحمدیوں اور ہندوئوں نے مضامین لکھے جن میں انہوںنے آپ کی بڑائی اور عظمت کا ذکر کیا(تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۵۶۰تا ۵۶۸)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گو وہ ظاہر میں آپ کی مخالفت کرتے تھے مگر ان کے دل آپ کی عظمت کے قائل تھے۔یہ قبولیت اور عظمت کسی مفتری انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔پس فرماتا ہے دنیا میں مخالفتیں کرنے والے مخالفتیں کرتے ہیں مگر ان کی مخالفت کا پہلو یک طرفہ ہوتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مخالفت کے ساتھ اس کی عظمت کے بھی قائل ہیں مگر یہاں یہ حالت ہے کہ یہ لوگ تیرے دشمن بھی ہیں اور تیری طاقت اور عظمت کے بھی قائل ہیں۔کہتے ہیں کہ تو بڑا جھوٹا ہے مگر ساتھ ہی کہتے ہیں تو بڑا امین ہے۔سننے والاسنتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ یہ کیا متضاد باتیں کہہ رہے ہیں۔ایک کہتا ہے وہ شاعر تو ہے مگر شعر نہیں کہتا یا کاہن تو ہے مگر کاہنوں کا دشمن ہے۔گویا جہاں وہ الزام لگاتے ہیں وہاں ساتھ ہی ایک رنگ میں عظمت اور نیکی کا بھی اقرار کرجاتے ہیں۔اس کے علاوہ اس آیت کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پھیلنا شروع ہوجائے گا۔چنانچہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد آپ کا ذکر سارے عرب میں پھیل گیا تھا اور لوگ ایمان بھی لانے لگے تھے۔چنانچہ ابوذر غفاریؓ غفار میں، بعض لوگ یمن میں، بعض مدینہ میں، مکی زندگی میں ہی ایمان لے آئے اور اس طرح آپ کا سلسلہ مختلف ممالک میں پھیل گیا۔فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ۰۰۶اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ۰۰۷ پس (یاد رکھوکہ) اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی (مقدر) ہے۔(ہاں) یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک (اور بھی) بڑی کامیابی (مقدر) ہے۔تفسیر۔عربی قواعد کے رو سے تنوین ہمیشہ بڑائی اور عظمت کے اظہار کے لئے آتی ہے۔پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔ہاں ہاں یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔گویا اصل مقصد تنگی کا ذکر کرنا نہیں بلکہ اصل مقصد یسر کی بڑائی اور اس کی اہمیت پر زور دینا ہے۔