تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 213

مطالعہ کیا اور ہمیں معلوم ہوا کہ سچے عقائد وہی ہیں جو آپ کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔لوگوں کی طرف سے مخالفت میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ بالکل جھوٹ ہے اس لئے ہم آپ کی بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ میں آنحضرت صلعم کی شہرت پھیل جانے کی پیش گوئی اسی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہمارا تجھ پر کتنا بڑا احسان ہے کہ آج ہرمجلس میں تیرا ذکر ہورہا ہے۔سیاستدان کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے دعویٰ کردیا ہے۔عالم کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دعویٰ کردیا ہے۔تاجر کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دعویٰ کردیا ہے۔کاہن کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دعویٰ کردیا ہے۔غرض ہر سننے والا کہتا ہے کہ اب کچھ ہونے والا ہے۔اب دنیا میں کوئی نہ کوئی انقلاب پیدا ہونے والا ہے۔پس وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کے ایک معنے یہ ہیں کہ ہم نے تیرے ذکر کو اس قدر بلند کردیا ہے کہ ہر مجلس اور ہر نادیہ میں تیرا ذکر ہونے لگا ہے۔لوگوں کی طبائع میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا ہے اور وہ اس بات پر مجبور ہوگئے ہیں کہ تیری طرف توجہ کریں۔اس کا نتیجہ تیرے حق میں لازماً اچھا ہوگا کیونکہ لوگ جب غور کریں گے تو ان پر تیری صداقت واضح ہوجائے گی۔اس کی ایک موٹی مثال دیکھ لو ورقہ بن نوفل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے مکہ میں مسیحیت کا پرچار کرتے رہتے تھے۔مگر مکہ والوں میں کوئی شور نہ تھا۔وہ ان کی باتوں کو سنتے اور ہنس کر چلے جاتے(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کی آواز بلند کی، عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مخالفت کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہر شخص آپ کو کچلنے کے لئے کھڑ اہوگیا۔اسی طرح زید بن عمرو جو حضرت عمرؓ کے چچا زاد بھائی تھے وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٔ نبوت سے قبل توحید کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔مگر کبھی ان کی مخالفت نہیں ہوئی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھانے کی دعوت دی انہوں نے کہا میں مشرکوں کا کھانا نہیں کھاتا۔آپ نے فرمایا میں نے تو کبھی شرک نہیں کیا (اُسد الغابۃ فی معرفۃ الصـحابۃ زیر لفظ زید بن عمرو)۔اس زید جیسے کٹر مؤحد کی لوگوں نے کبھی مخالفت نہیں کی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بتوں کے خلاف آواز بلند کی تو سارا عرب آپ کا مخالف ہوگیا کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ زید کی زبان سے تو ہمارے بت نہیں ٹوٹے تھے مگر یہ وہ زبان ہے جو ہمارے بتوں کو توڑ کر رکھ دے گی۔پس وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کے ایک معنے یہ ہیں کہ ہم نے تمام لوگوں کی توجہ تیری طرف پھیر دی ہے۔ہر شخص سمجھتاہے کہ یہ دنیا میں کچھ نہ کچھ کرکے رہے گا۔اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔اس آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ہم نے تیری قبولیت دنیا میں پھیلادی ہے۔درحقیقت کامیابی کے ساتھ اس امر کا بھی تعلق ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں قبولیت کے آثار پیدا کردیئے جائیں۔حدیثوں میں