تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 13
آتے ہیں جیسے کوئی اونچا سا خیمہ لگا ہوا ہو۔اسی طرح اگر درخت کے نیچے لیٹ کر اوپر کی طرف دیکھا جائے تو درخت کا بالکل اور نظارہ نظر آئے گا۔کسی مینار کے نیچے کھڑے ہو کر اوپرکی طرف دیکھو تو خواہ وہ ایک سو یا ڈیڑھ سو فٹ کا ہو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانچ سو یا ہزار فٹ کا ہے لیکن اگر ہوائی جہاز میں بیٹھ کر مینار کو دیکھا جائے تو وہی مینار بہت چھوٹا نظر آتا ہے۔غرض ہر چیز کی ایک حقیقت ذاتی حسابی ہوتی ہے جو طبعی حالات میں نظر آتی ہے اور ایک حقیقت اُس کی دوسری چیزوں کے لحاظ سے نظر آتی ہے۔ایک شخص ساری رات سوچتا ہے بڑے بڑے اہم مسائل پر تدبر کرتا ہے فلسفہ اور ہیئت کی باریکیوں پر غور کرتا ہے، سیاست اور اقتصادکے بڑے بڑے نکات حل کرتاہے، قوموں کی ترقی اور ان کے تنزل کے وجوہ پر غور کرتا ہے اور اسی میں اپنی تمام رات بسر کردیتا ہے۔صبح اُسے کوئی شخص ملتا ہے تو وہ ان مسائل میں سے کوئی ایک بات اس کے سامنے بیان کرتا ہے۔اب زید جس نے ساری رات سوچ کر سو اہم مسائل حل کئے تھے اُس کی نسبت کے لحا ظ سے جو علم دوسرے شخص کو اس سے حاصل ہوا وہ صرف ۱۰۰ ۱تھا۔پھر ایک اور شخص ملتا ہے اور اس سے بھی وہ بعض مسائل کا ذکر کر دیتا ہے فرض کرو وہ اس کے سامنے دو مسئلے بیان کرتا ہے تو اب دوسرے شخص کو جو روشنی حاصل ہوئی وہ دو فیصدی ہے گویا ایک اس کی ذاتی روشنی ہے اور ایک اس کی وہ روشنی ہے جو دوسرے لوگوں کے لحاظ سے ہے اس کی ذاتی روشنی تو یہ ہے کہ اس نے سو۱۰۰ مسئلے حل کئے ہیں لیکن اس کی نسبتی روشنی یہ ہے کہ ایک شخص ملتا ہے تو وہ اس کے سامنے ایک مسئلہ بیان کرتاہے، دوسرا شخص ملتا ہے تو اس کے سامنے دو مسئلے بیان کرتا ہے، تیسرا شخص ملتا ہے تو اس کے سامنے تین مسئلے بیان کرتا ہے اور وہ اس کی ذاتی روشنی کا اسی قدر اندازہ لگاتے ہیں جس قدر علم ان کو اس شخص سے حاصل ہو چکا ہوتا ہے پھر ایک اور شخص اسے ملتا ہے اور وہ اس کے سامنے ان مسائل کے متعلق ایک بڑی لمبی تقریر کرتا اور سو۱۰۰ میں سے پچاس مسئلے بیان کردیتا ہے اب اُس کے لحاظ سے اُس کی علمی روشنی کی بالکل اور کیفیت ہو گی اور وہ اس کا اندازہ ان پچاس مسائل سے لگائے گا جو اسے بتائے گئے تھے اس کے بعد اگر کوئی اور شخص اُسے ملتا ہے اور وہ اُس کے سامنے سو۱۰۰ کے سو۱۰۰ مسائل بیان کر دیتا ہے تو وہ اُس کے سامنے بالکل گویا عرفانی طور پر ننگا ہو جاتا ہے۔اب وہ شخص جس کے سامنے صرف ایک مسئلہ بیان ہوا تھا وہ بھی کہتا ہے کہ فلاں نے بڑے لمبے غور کے بعد یہ بات نکالی ہے مگر وہ اس کے صرف ۱۰۰ ۱حصہ کو جانتا ہے، جس کے سامنے دو باتیںبیان ہوئی تھیں وہ اس کے ۱۰۰ ۲حصہ کو جانتا ہے جس کے سامنے دس باتیں بیان ہوئی تھیں وہ اس کے ۱۰ ۱حصہ کو جانتا ہے اور جس کے سامنے پچاس باتیں بیان ہوئیں تھیں وہ اس کی ۲ ۱حقیقت کو جانتا ہے اور جس کے سامنے سو۱۰۰ باتیں بیان ہوئی تھیں وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اس کی ساری حقیقت کو جان لیا مگر واقعہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے اس سے پہلی رات بھی