تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 12
ہردوسری تحریک سے انکار کرتا ہے یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انکار تکبر والا انکار نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح عربی کا محاورہ ہے بادشاہ سے کہتے ہیں۔اَبَیْتَ ا للَّعْنَ۔آپ نے لعنت کا انکار کیا ہےمطلب یہ کہ آپ ایسے شریف ہیں کہ کسی قسم کی لعنت کو اپنے قریب نہیں آنے دیتے۔اسی طرح کہتے ہیں رَجُلٌ اَبِیٌّ فلاںشخص ظلم اٹھانے سے انکاری ہے پس شَـمْسٌ کے معنے گو سورج کے ہیں مگر شمس کے مادہ کے اعتبار سے اس کے معنے اِبَاء کے بھی ہیں اور ان معنوںکے لحاظ سے اس سے مراد وہ وجود ہو گا جو کسی کی ناواجب اطاعت سے انکار کرے اور مطلب یہ ہو گا کہ ایسا وجود جس کی قابلیتیں ہی ایسی ہیں کہ وہ کسی کی اطاعت کے لئے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ خدا نے اسے دنیاکا لیڈر بنایا ہے اس کا کام صرف یہی ہے کہ وہ دوسروں کی راہنمائی کرے اس کا یہ کام نہیں کہ کسی کی ماتحتی اختیار کرے۔اَ لضُّحٰی ضَـحَا (یَضْحُوْ ضَـحْوًا)کے معنے ہوتے ہیں کوئی چیز ظاہر ہوگئی چنانچہ کہتے ہیں ضَـحَا الطَّرِیْقُ بَدَا وَ ظَھَرَ کہ راستہ ظاہر ہو گیا (اقرب) اور جب سورج کی روشنی زیادہ نکل آئے تو اس وقت کو ضُـحٰی کہتے ہیں(اقرب) صبح جب سورج نکلتا ہے اس وقت کو نہیں بلکہ جب سورج دو تین نیزے اوپر آجائے اس وقت کو ضُـحٰی کہتے ہیں لیکن اس سے پہلے وقت کو جو طلوع آفتاب کا ہوتاہے اور جس میں روشنی پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی ضَـحْوَۃٌ کہتے ہیں۔بعض نے اور زیادہ فرق کیا ہے ان کے نزدیک سورج نکلتے وقت کو ضَـحْوَۃٌ کہتے ہیں۔جب سورج کچھ بلند ہوتا ہے تو اس وقت کو ضُـحٰی کہتے ہیں اور پھر نصف النہار سے زوال تک کے وقت کو ضُـحَاءٌ کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں شہادت کے طور پرپیش کرتا ہوں سورج کو اور اس کے ظہور اور روشنی کو۔وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا میں دو حقیقتوں کی طرف اشارہ دنیا میں ہر چیز دو حیثیتیں رکھتی ہے ایک اس کی ذاتی حقیقت حساب اور وزن کے لحاظ سے اور ایک اس کی حقیقت دوسری چیزوں کی نسبت کے لحاظ سے۔مثلاً فرض کرو ایک درخت دس فٹ اونچا ہے یہ دس فٹ قد اس کا اصلی قد ہوگا اور بغیر دوسری چیزوں کی نسبت کے اسے اس درخت کا اصلی قد قرار دیا جائے گا مگر ایک قد اس کا نسبتی ہو گا۔مثلاً ایک شخص پندرہ بیس فٹ کے ٹیلے پر چڑھ جائے تو لازماً درخت کی ساری لمبائی اسے نظر نہیں آئے گی بلکہ بعض دفعہ اونچائی اور زاویہ نگاہ کے مطابق اسے وہ درخت دو فٹ کا نظر آئے گا۔بعض دفعہ تین فٹ کا نظر آئے گا۔بعض دفعہ چار فٹ کا نظر آئے گا۔یا ایک شخص گڑھے میں ہے تو اسے وہ درخت بہت لمبا نظر آئے گا اور دس کی بجائے تیرہ یا چودہ فٹ کا معلوم ہو گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص دور سے درخت کو دیکھتا ہے تو وہ اسے بہت چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔دور سے ہم پہاڑ دیکھتے ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ بعض دفعہ دو ہزار بعض دفعہ چار ہزار اور بعض دفعہ بیس بیس ہزار فٹ اونچے ہوتے ہیںدور سے دیکھنے کی وجہ سے ایسے نظر