تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 162
اللہ تعالیٰ نے جو فضل نازل کئے تھے ان کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ سے مطالبہ کیا ہے کہ جیسے تم یتیم تھے اور ہم نے تمہاری خبر گیری کی اسی طرح تم ہمارے یتیموں کی خبر گیری کر و۔جیسے تم سائل تھے اور ہم سے محبت کی بھیک لینے آئے اور ہم نے تمہاری آرزو کو پورا کر دیا اسی طرح اب ہمارے سائل جو تیرے پاس آئیں تیرا فرض ہے کہ تُو ان کی آرزوئوں کو پور اکرے۔پھر جس طرح ہم نے تجھے عائل پا کر غنی کر دیا تھا اسی طرح دنیا میں بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جن کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ خدا نے ان کی ہدایت کے لئے آسمان سے کتنابڑا نور نازل کر دیا ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں اپنی عمر بسر کر رہے ہیں اورآسمانی نور کی شعائیں ان تک نہیں پہنچیں۔ان کے دل بھی اس شوق میں تڑپ رہے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کی محبت حاصل ہو۔اس کا پیار ان کی غذا ہو اور اس کا عشق ان کے رگ و ریشہ میں ہو۔مگر وہ نہیں جانتے کہ وہ شمع کہاں ہے جس کے گرد وہ پروانہ وار اپنی جانوں کو قربان کر دیں۔ہم نے تجھے آسمانی دولت سے مالا مال کر کے اس لئے بھیجا ہے کہ تو دنیا کے سب لوگوں تک خدائے قدوس کی آواز پہنچا دے۔سو ڈھنڈورا دو اور خوب دو۔تبلیغ کرو اور خوب کرو۔خدا کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچائو اور خوب پہنچائو۔سوتی دنیا کو جگائو اور خوب جگائو اور جو خزانے خد انے تمہیں عطا کئے ہیں انہیں بلا دریغ لوگوں میں تقسیم کردو کہ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے تمہیں دنیا میںکھڑ اکیا گیا ہے۔یہ تینوں آیتوں کا تقابل بھی بتاتا ہے کہ وَجَدَكَ ضَآلًّا میں گمراہی مراد نہیں۔کیونکہ یتیم کے مقابل پر یتیم کا ذکر کیا ہے نعمت کے مقابل پر تحدیث بالنعمت کا ذکر کیا گیا ہے۔اس لئے لازماً ضَآلًّا کے مقابل پر جوآیت ہے اس میں پہلی آیت کے متعلق ہی اشارہ چاہیے اور اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی سوالی کو رد نہ کر پس ضَآلًّا کے معنے بھی سوال کے کرنے کے ہوں گے اور یہی معنے کئے گئے ہیں۔یعنی تو خدا تعالیٰ کی محبت کا سوالی تھا سو ہم نے تیری اس غرض کو پورا کیا اور ہدایت بخشی۔