تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 152
اپنی گواہی کو مؤخر سمجھا جائے گا۔اس لحاظ سے بات وہی درست ہو گی جس کی خدا تعالیٰ نے گواہی دی نہ وہ بات جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی طرف سے پیش کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ گواہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اپنی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی گواہی ہے۔چنانچہ قُلْ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس گواہی کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہے کہ ہم تمہارے متعلق اس گواہی کو پیش کرتے ہیں تم لوگوں کے سامنے اسے پیش کر و اور انہیں چیلنج دو کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ تمہاری زندگی میں کوئی عیب ثابت کریں۔چنانچہ اصل آیت یوں ہے۔قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَيْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖٞ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس :۱۷) اس آیت میں قُلْ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی گواہی ساتھ شامل کردی ہے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکیلی گواہی نہیںرہی۔غرض وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى اگر خدا تعالیٰ کی گواہی ہوتی اور فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اپنی گواہی ہوتی تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ خدائی گواہی کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات کے متعلق گواہی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔لیکن خدا تعالیٰ نے قُلْ کہہ کر اپنی گواہی بھی ساتھ ہی شامل کردی ہے۔تا یہ نہ سمجھا جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اپنے پاس سے کہی ہے پس ان میں سے کوئی گواہی بھی دوسری گواہی کے خلا ف نہیں ہو سکتی۔جب دشمن بحث سے تنگ آجائے اور دلائل کے میدان میں وہ بالکل بے بس ہوجائے۔تو بعض دفعہ تنگ آکر وہ کہہ دیا کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تعالیٰ کی طرف یہ بات منسوب کرنا ایک دعویٰ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔اور اپنی طرف سے بات کہنا تعلّی اور لاف زنی ہے۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا لوگ بھی آپ کو ایسا ہی بےعیب سمجھتے تھے جیسا کہ آپ نے دعویٰ کیا۔اگر لوگ آپؐکو بے عیب نہیں سمجھتے تھے تو محض تعلّی کے طور پر ایک بات پیش کر دینے سے کیا بن جاتا ہے۔لوگ تو جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے اور یہ تعلّی صداقت سے کس قدر دور ہے۔آنحضرتؐکے صدوق و امین ہونے کے متعلق آپ کے نہ ماننے والوں کی گواہی اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر لوگوں کی گواہی کو لو تب بھی ان کی شہادت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ دعویٰ نبوت سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ صدوق اور امین سمجھتے اور آپؐکی راستبازی کے وہ حددرجہ قائل تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب آپ کو انذار کا حکم ہوا تو صفا پہاڑی پر آپؐکھڑے ہوئے اور آپؐنے نام لے لے کر مختلف قبائل کو بُلانا شروع کیا۔جب تمام لوگ اکھٹے ہو گئے تو آپؐنے فرمایا۔اچھا یہ بتائو اگر میںتم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا