تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 148
پیچھے دیکھتا تھا، تو ان کو سیاست میں تمام دوسری قوموں سے پیچھے دیکھتا تھا اور ہم دیکھتے تھے کہ جس طرح تو ہم سے ملنے کے لئے مر رہا تھا اسی طرح تو اپنی قوم کے لئے بھی مر رہا تھا۔جس طرح تو ہماری محبت کے لئے بے تاب ہو رہا تھا اسی طرح اپنی قوم کے درد میںبھی ہلاک ہو رہا تھا گویا تجھ پروہی کیفیت تھی جو ہم دوسری جگہ ان الفاظ میںبیان کر چکے ہیںکہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(الشعرآء:۴)۔جب ہم نے دیکھا کہ تو اپنی قوم کے لئے مررہا ہے، اُس کے غم میں ہلاک ہو رہا ہے، اُس کی اصلاح کی فکر میںگھلتا چلا جا رہا ہے اور دن رات تجھے یہی تڑپ اور یہی فکر ہے کہ کسی طرح میری گری ہوئی قوم ترقی کرے تو ہم نے تجھے وہ رستہ دکھا دیا جس پر چل کر تیری قوم اس موت سے بچ جائے یعنی تجھے قرآن دے دیا جس میں وہ ساری چیزیں موجود ہیں جو نہ صرف مکہ والوں کی تباہی کو دور کر سکتی ہیںبلکہ ساری دنیا کی ہلاکت اور بربادی کا واحد علاج ہیں پس وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا میں اس جذبۂ اصلاح کی طرف اشارہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں اپنی قوم کی اصلا ح اور پھر ساری دنیا کی اصلاح کے متعلق نمایاں طور پر پایا جاتا تھا او ر درحقیقت یہ جملہ ترجمہ ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ کی آیت کا۔بَاخِعٌ کے معنے صرف گردن کاٹنے کے نہیںہوتے بلکہ اس رنگ میںگردن کاٹنے کے ہوتے ہیں کہ انسان گردن کی پچھلی نسوں تک اسے کاٹتا چلا جائے اور آخری حد تک اسے پہنچا دے(لسان العرب)۔اس طرح بتایا کہ تجھے اپنی قوم کے کفر اور اس کے خدا تعالیٰ سے دور چلے جانے کا اس قدر غم اور اس قدر صدمہ تھا کہ گویا اس غم میں اپنی ساری گردن کاٹ بیٹھا تھا۔خد اتعالیٰ کی محبت کے لحاظ سے تو اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے تجھ کو اپنی محبت میں بے انتہا صدمہ رسیدہ دیکھا اور آخر تجھے وہ راستہ بتا دیا جس پر چل کر تو ہمارے پاس پہنچ سکتا اور قوم کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیںکہ ہم نے تجھے اپنی قوم کے غم میں بالکل مردہ کی طرح پایا۔جب ہم نے یہ حالت دیکھی تو ہم نے تجھے وہ شریعت دے دی جس سے یہ گری ہوئی اور تباہ شدہ قوم بھی ترقی کی طرف دوڑ پڑے۔غرض ان آیات میںاللہ تعالیٰ نے اُن احسانات کا ذکر فرمایا ہے جواُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے۔اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى میںتو یہ بتایا کہ ہم نے تیرے جسمانی یُتم میںتجھے جسمانی رشتہ دار عطا کئے۔تُو اس بات کا محتاج تھا کہ کوئی شخص تیری پرورش کرنے والا ہو تا، تجھے محبت اور پیار سے رکھتا اور تیری ضروریات کو پورا کرتا۔سو اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے ایسے لوگ کھڑے کر دیئے جو انتہائی توجہ کے ساتھ تیری پرورش کا فرض سر انجام دیتے رہے اور ہر موقع پر جسمانی طورپر تیری مدد کرتے رہے دوسری طرف روحانی یُتم کے لئے ہم نے