تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 147
نگاہیں خیرہ ہو رہی ہیں۔وہ تیرے حسن اور تیرے جلال اور تیرے کمال کو دیکھ کر رطب اللسان ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ یہ سب کچھ ہمارے فضل کا نتیجہ ہے۔تو لوگوں کی نگاہوںسے بالکل غائب تھا اور دوسروں کا تو کیا ذکر ہے تو خود بھی نہیں جانتا تھا کہ تیرے اندر کون سے کمالات ودیعت کئے گئے ہیں۔ہم تجھے نکال لائے اور تیری شوکت اور عظمت کو دنیا پر ظاہر کر دیا ورنہ اور کون تھا جو تیری فطرت صحیحہ کو پہچان سکتا، ہم ہی تھے جنہوں نے تجھے پہچانا اور گمنامی کے گوشوں سے نکال کر تجھے دنیا میں عزت کے ساتھ مشہور کر دیا۔وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کے تیسرے معنے پھر ضلال کے ایک معنے محبت شدید ہ کے بھی بتائے جا چکے ہیں ان کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھ کو شدید محبت میںمبتلا دیکھا تیرے اندر تڑپ تھی اپنے پیدا کرنے والے کے لئے تو زمین کو دیکھتا، تُو آسمان کی بناوٹ پر غور کرتا اور تیری فطرت تجھے کہتی کہ اس کارخانہء عالم کو پیدا کرنے والا ایک خدا ضرور ہے مگر ادھر تو اس قوم میں پیدا ہوا تھا جس کے پاس کوئی شریعت نہیں تھی اور جسے خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ معلوم نہیں تھا ہم نے دیکھا کہ جیسے یوسفؑ کے لئے یعقوب ؑ تڑپ رہا تھا اس سے بھی زیادہ شوق اور محبت کے ساتھ تو اپنے پیدا کرنے والے کے لئے تڑپ رہا ہے۔تیری فطرت تجھے ہماری طرف توجہ دلاتی تھی مگر تجھے ہمارا راستہ ملتا نہ تھا۔نیچر کی انگلیاں اٹھ اٹھ کر تجھے بتاتی تھیں کہ تیر ا کوئی مالک ہے، تیرا کوئی خالق ہے، تیرا کوئی رازق ہے۔تو چاروں طرف دیکھتا اور کہتا کہ میرا خالق اور مالک کہاں ہے؟ میںاُس کے پاس جانا چاہتا ہوں۔اور چونکہ کوئی شریعت نہیں تھی جس پر چل کر تو ہمارے پاس پہنچ جاتا اس لئے جب ہم نے تیری اس تڑپ اور محبت کا مشاہدہ کیا تو فَهَدٰى اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے آواز دے دی کہ ہم یہاں ہیں ہمارے پاس آجائو۔وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کے چوتھے معنے پھر اس آیت کے ایک معنے اور بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(الشعرآء:۴)۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم شاید تو اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں تجھ پر ایمان نہیں لاتے۔اوپر بتایا جا چکا ہے کہ ضَلَّ کے ایک معنے مر کھپ جانے کے بھی ہیں پس وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۔میں اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے دیکھا کہ تو اپنی قوم کی تباہی اور گمراہی کو دیکھ کر مر رہا تھا، تو ان کے کفر کو دیکھتا تھا، تو ان کی بد اخلاقیوںکو دیکھتا تھا، تو ان کی چوریوں کو دیکھتا تھا، تو ان کے ڈاکوںکو دیکھتا تھا، تو ان کے اسراف کو دیکھتاتھا، تو ان کی اخلاقی اور عائلی کوتاہیوں کو دیکھتا تھا، تو ان کو علم میں تمام دوسری قوموں سے