تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 143

تھے۔آپؐکی محبت میں اشعار پڑھتے رہتے تھے اور اپنے بچوں کو ڈانتے رہتے تھے کہ اس کی قدر کیوں نہیں کرتے پھر عربوں میں رواج تھا کہ وہ بچے پالنے کے لئے دائیاں رکھا کرتے تھے آپؐکی والدہ نے چاہا کہ انہیں بھی کوئی دائی مل جائے مگر غربت کی وجہ سے کوئی دائی نہ ملی۔آخر اللہ تعالیٰ نے حلیمہ کو اس عظیم الشان خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔حلیمہ وہ تھی جسے ہر دروازہ سے محض اس لئے رد کیا گیا تھا کہ وہ ایک غریب عورت تھی اگر اسے بچہ دیا گیا تو وہ اسے کھلائے گی کہاںسے؟ گویا وہ جس کے گھر میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کا سامان کرنا تھا اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مکہ کے تمام بچے حرام کر دیئے۔وہ جس گھر میںبھی گئی اسے یہی کہا گیا کہ ہم تمہیں اپنا بچہ نہیںدے سکتے، تم بچہ لے گئیں تو اسے کھلائو گی کہاں سے۔گویا سارے مکہ میں اس روز ایک بچہ ایسا تھا جسے کوئی دایہ نہ ملی اور ایک دایہ ایسی تھی جسے کوئی بچہ نہ ملا۔جب شام ہو گئی اور ادھر حلیمہ کسی بچہ کے ملنے سے مایوس ہو گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کسی دایہ کے ملنے سے مایوس ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے حلیمہ کے دل میں ڈالا کہ گو یہ بچہ غریب گھرانے کا ہے اور اس کا والد فوت شدہ ہے مگر میرا خالی جانا دوسرے لوگوں کی ہنسی کا موجب ہو گا چلو میں اسی کو لے چلوں چنانچہ وہ آئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت ڈال دی کہ آپؐکا دم بھر کے لئے آنکھوں سے اوجھل ہونا اس پر سخت گراں گزرتا اور وہ آپؐکی محبت میںبے تاب ہو جاتی۔تاریخوں میںآتا ہے کہ آپؐذرا بھی اس کی آنکھ سے اوجھل ہو تے تو وہ اپنے بچوں کو ڈانٹنے لگ جاتی کہ تم اسے چھوڑ کر کیوں آگئے ہو اور پھر آپؐکو لانے کے لئے دوڑ پڑتی(السیرۃ الـحلبیۃ باب وفاۃ والدۃ)۔غرض باپ کے بعد آپؐکو پرورش کے لئے حلیمہ جیسی دائی ملی، عبدالمطلب جیسا محبت کرنے والا دادا ملااور پھر جب عبد المطلب فوت ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپؐکے چچا ابو طالب کے دل میں آپؐکی محبت ڈال دی۔ابو طالب کو بھی آپؐسے بےانتہا محبت تھی ایسی محبت کہ میرے نزدیک دنیا میںبہت کم چچا ہوں گے جنہوں نے اپنے کسی بھتیجے کو اس محبت کے ساتھ پالا ہو۔جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک مالدار عورت کے دل میں آپؐکی محبت پیدا کر دی اور خود اس کے دل میںیہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ان سے شادی کر لوں کیونکہ یہ بہت ہی بلند اخلاق کے مالک ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپؐکے لئے گھربار کا سامان پیدا کر دیا۔پھر یتیم کے لئے ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ماں باپ زندہ ہوتے ہیںتو ان کی خوشنودی کے لئے لوگ دوستیاں اختیار کرتے ہیں لیکن جب مر جاتے ہیں تو ان کے تمام تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور دوستی کا خیال تک بھی ان کے دل میں کبھی نہیں آتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین چونکہ فوت ہو چکے تھے اس لئے طبعی طور پر آپؐکو بھی ساتھیوں اور دوستوں کی