تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 91
دونوں کے متعلق آیات پائی جاتی ہیں۔اخروی شقاوت کا ذکر اس آیت میں ہے فَلَا يَضِلُّ وَ لَا يَشْقٰى(طٰہٰ: ۱۲۴) کہ وہ گمراہ نہیں ہو گا اور نہ شقی ہو گا۔یہاں لَا يَشْقٰى سے مراد یہ ہے کہ اس کی روح شقاوت میں مبتلا نہیں ہو گی۔اس کے مقابلہ میں دنیوی شقاوت کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے کہ فَلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰى (طٰہٰ: ۱۱۸) یعنی اے آدمؑ ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں جنت سے نکال دے اور تم شقی ہو جاؤ۔یہاں شقاوت سے اخروی شقاوت مراد نہیں ہو سکتی۔کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔اس آیت میں فَتَشْقٰى کے معنے صرف یہ ہیں کہ تم جسمانی طور پر تکلیف میں مبتلا ہو جاؤ گے۔بعض لغت والے بھی یہ لکھتے ہیں کہ کبھی تھکان کے معنوں میں بھی شقاوت کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے جیسے کہتے ہیں شَقَیْتُ فِیْ کَذَا میں فلاں معاملہ میں پڑ کر سخت تھک گیا ہوں۔مگر وہ کہتے ہیں اس میں ایک فرق بھی ہے کہ کُلُّ شَقَاوَۃٍ تَعَبٌ وَّلَیْسَ کُلُّ تَعَبٍ شَقَاوَۃً ہر شقاوت تعب کہلا سکتی ہے لیکن ہر تعب کو شقاوت نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ شقاوت میں تذلیل کا ایک رنگ پایا جاتا ہے جو تعب میں نہیں ہوتا۔اگر ایک خالص نیک کام کرتے ہوئے انسان کو تھکا ن ہو جائے تو اسے شقاوت نہیں کہا جائے گا۔اگر ایک شخص پچھلی رات کو اٹھ کر دو تین گھنٹے تہجد کی نماز پڑھتا ہے تو لازمًا اسے تعب ہو جائے گی مگر اس تعب کو ہم شقاوت نہیں کہیں گے۔شقاوت کا لفظ اس تعب کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جس میں بُرائی پائی جاتی ہو۔پس اَشْقٰی اس کو کہیں گے جس میں شقاوت حد درجہ کی پائی جائے۔تفسیر۔اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا تھا کہ نصیحت کو بالالتزام جاری رکھنا چاہیے۔کیونکہ خشیت کے اوقات انسانی قلب پر آتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ جو شخص آج انکار کر رہا ہو وہ کل ہماری باتوں کو تسلیم کرنے لگ جائے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اگر تم ہمارے اس حکم پر عمل جاری رکھو تو پھر ایسا ہی شخص ہدایت پانے سے محروم رہ سکتا ہے جو سخت شقی ہو اور جس کے گناہوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ اب اسے ہدایت نہیں مل سکتی ورنہ اور لوگ ضرور مان جائیں گے۔یہ علیحدہ سوال ہے کہ وہ جلدی مانتے ہیں یا دیر کے بعد مانتے ہیں۔وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى میں اَشْقٰی کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اَشْقٰی کا لفظ کیوں استعمال فرمایا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاؑء سے افضل ہیں اس لئے آپؐکا منکر بھی تمام انبیاؑء کے منکرین میں سے زیادہ شقی اور بدبخت ہے۔موسٰی کا منکر