تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 4

اس سے پہلی سورۃ میں یہ مضمون بیان کیا گیا تھا کہ آنے والا بدر کی صورت میں آئے گا جیسے فرمایا وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ کہ میں تیرھویں کے چاند کو بطور شہادت پیش کرتا ہوں یا فرمایا تھا وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ یعنی بارہ بروج کے بعد ایک تیرھویں موعود کی خبر دی گئی تھی۔آخری زمانہ میں آنے والے موعود کے دو نام دو مختلف وجوہات سے پس پہلی دونوں سورتوں میں آنے والے کے متعلق یہ بیان کیا گیا تھا کہ وہ بدر ہو گا۔بدر کے لفظ سے ایک شبہ پیدا ہوتا تھا اورو ہ یہ کہ گو بدر یہ بتاتا ہے کہ اس نے سورج کی روشنی کو پورے طور پر دوسروں تک پہنچا دیا ہے لیکن بدر ایک اور طرف بھی اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ سورج لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔پس اگر بدر پر ہی خاتمہ ہے تو دوسرے معنی اس کے یہ ہوں گے کہ نورِ محمدؐی براہِ راست اپنا پَرتَو اب دنیا پر نہیں ڈالے گا اور یہ ایک نقص ہے۔نورِ محمدؐی اگر براہِ راست اپنا پَرتَو نہیں ڈالے گا تو اس کے معنے درحقیقت یہ بن جاتے ہیں کہ ہم نورِ محمدؐی کو تو دیکھیں گے مگر بواسطہ ایک دوسرے وجود کے۔اسے الگ نہیں دیکھیں گے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے اصل نبی ہیں اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو کر آتا ہے وہ آپؐکا تابع ہوتا ہے اور کوئی تابع اپنے متبوع کے رستہ میں روک بن کر کھڑ انہیں ہو سکتا اگر کوئی ایسا شخص آئے تو وہ خاتمِ سلسلہ ہی ہو سکتا ہے جیسے حضرت عیسٰی علیہ السلام آئے انہوں نے نورِ موسوی کو روکا مگر ساتھ ہی اسے ختم کر دیا۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ ہم جو ایک موعود کی خبر دے رہے ہیں وہ پہلے لوگوں کی طرح نہیں ہو گا وہ آخری ہوتے تھے ان معنوں میں کہ سلسلہ ان پر ختم ہو جاتا تھا مگر اسلام میں آنے والا دو نام رکھتا ہے ایک بدر اور ایک طارق۔بدر اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ سورج غروب ہو گیا اب اس کی روشنی بدر کے ذریعہ ہی دنیا تک پہنچ سکتی ہے اس کے بغیر نہیں۔لیکن طارق اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ سورج چڑھنے والا ہے پس یہ نہیں ہو گا کہ آنے والا نورِ محمدؐی کو روک دے گا بلکہ وہ ایک لحاظ سے بدر ہو گا اور ایک لحاظ سے طارق ہو گا۔وہ بدر ہو گا اس لحاظ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نورِ نبوت اپنے اندر جذب کر کے دنیا تک پہنچائے گا اور وہ طارق ہو گا ان لوگوں کے لحاظ سے جو اس سے تعلق پیدا کریں گے۔کیونکہ وہ اس سے تعلق پیدا کرنے کے بعد براہِ راست رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق پیدا کر لیں گے۔گویا بدر کے لحاظ سے وہ نورِ نبوت کو لے کر لوگوں تک پہنچائے گا اور طارق کے لحاظ سے لوگوں میں یہ استعداد پیدا کرے گا کہ براہِ راست نورِ محمدؐی کا اکتساب کریں۔پس بدر اور طارق دو نام ہیں جو آنے والے موعود کے رکھے گئے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ حدیثوں میں بھی آنے والے کے دو نام رکھے گئے ہیں ایک مسیح اور ایک مہدی۔(سنن ابن ماجہ، ابواب الفتن، باب شدّۃ الزمان)