تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 81
ہو گی بلکہ انجام کے لحاظ سے نہایت مفید ہو گی۔وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ اور اس نے قسمیں کھا کھا کر یقین دلایا کہ یہ دونوں باتیں تمہارے فائدہ کی ہیں۔خدا تعالیٰ نے اگر روکا تھا تو کسی ابتلا یا امتحان کے طور پر روکا تھا ورنہ خدا تعالیٰ کا قرب ہمیشہ ہی اچھا ہوتا ہے۔اگر تم فرشتے بن جاؤ تو بہرحال خدا تعالیٰ کا قرب تمہیں زیادہ حاصل ہو گا۔اور اگر تم خالد بن جاؤ تب بھی اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو گے اور اس کے قرب اور محبت میں بڑھتے رہو گے۔خدا کا روکنا اور ممانعت کا حکم دینا تو ایک وقتی طور پر امتحان لینے کے لئے تھا ہمیشہ کے لئے نہیں تھا۔یہ فقرات صاف بتا رہے ہیں کہ آدمؑ نہ صرف خدا تعالیٰ کے حکم کو بھولا نہیں تھا بلکہ اس وقت جب اس نے اس حکم کی خلاف ورزی کی شیطان نے خدا تعالیٰ کا یہ حکم اسے یاد کرایا اور بار بار قسمیں کھاکر یقین دلایا کہ خدا تعالیٰ نے اگر روکا تھا تو اس لئے کہ اسے ڈر تھا تم مَلک نہ بن جاؤ اور تم ابدی زندگی حاصل نہ کر لو اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو ہر حالت میں انسان کے لئے مفید ہی مفید ہیں۔خدا تعالیٰ کے دائمی قرب اور فرشتوں کی سی زندگی بسر کرنے سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہو سکتی ہے۔اگر انسان فرشتہ بن جائے اور اگر اسے دائمی زندگی حاصل ہو جائے تو خدا تعالیٰ کا قرب اسے بہرحال پہلے سے زیادہ حاصل ہو جائے گا اور جبکہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہی ہے تو اس حکم کے متعلق یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ عارضی طور پر ابتلا کے طور پر دیا گیا تھا۔اس لئے نہیں تھا کہ اس پر ہمیشہ کے لئے عمل کیا جائے۔اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ میں جس بھولانے کی طرف اشارہ ہے وہ روح ہے نہ احکام یہ وہ واقعہ ہے جس کا ذکرکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ: ۱۱۶) آدمؑ ہمارے حکم کو بھول گیا۔حالانکہ جہاں تک حکم کے الفاظ کا تعلق ہے قرآن کریم سے ہی ثابت ہے کہ آدمؑ اس کو نہیں بھولا۔بلکہ شیطان جو آدمؑ کو بہکانے کا موجب ہوا اس نے خود یہ حکم یاد کرایا اور کہا کہ خدا نے روکا تو تھا مگر اس کی کچھ اور وجہ تھی۔پس یہاں نسیان سے مراد نسیانِ الفاظ نہیں بلکہ نسیانِ اہمیتِ حکم ہے۔اور نَسِیَ سے یہ مراد ہے کہ آدمؑ ہمارے حکم کو لفظاً نہیں بلکہ معناً بھول گیا۔ہمارے حکم کی اصل روح کو اس نے نظر انداز کر دیا اور وہ اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گیا۔اس آیت میں بھی اِلَّا سے اس دوسری قسم کے نسیان کی طرف ہی اشارہ ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى ہم تجھ کو قرآن کریم پڑھائیں گے ( اور تجھ سے مراد جیسا کہ میں بتا چکا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اُمّتِ محمدیہ مراد ہے) اور تو اس قرآن کو نہیں بھولے گا۔یعنی تیری اُمّت اس قرآن کو نہیں بھولے گی۔اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ مگر وہ حصہ جو خدا چاہے گا بھول جائے گا۔یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمان لفظاً تو قرآن کریم